حیدرآباد ۔ /18 نومبر(سیاست نیوز ) نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے بردوان دھماکہ کیس کی تحقیقات میں مزید پیشرفت کرتے ہوئے میانمار کے شہری کو شہر کے مضافاتی علاقہ بالاپور سے گرفتار کرلیا ۔ ذرائع کے بموجب 28 سالہ خالد محمد عرف خلید جو گزشتہ ایک سال سے بالاپور کے علاقے رائل کالونی میں کرایہ کے مکان میں مقیم تھا اسے /14 نومبر کی شب این آئی اے عہدیداروں نے بردوان دھماکے کیس کے سلسلے میں گرفتاری کرلیا تھا ۔ تحقیقاتی ایجنسی نے خالد کی گرفتار کا آج باضابطہ اعلان کیا ہے۔این آئی کے عہدیدار اُس وقت حیرت زدہ ہوگئے جب انہیں خالد کے کرایہ کے مکان سے دھاوے کے دوران اس کے لیاپ ٹاپ میں سائینائڈ زہر(انتہائی خطرناک زہریلا مواد سائنیڈ1060 ) کے فارمولے سے تیار کئے جانے والے بم کا لٹریچر برآمد ہوا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس زہریلے بم کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوسکتی ہیں چونکہ زخمی افراد بھی سائینائڈ کی زد میں آنے پر اندرون چند سیکنڈ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ این آئی اے نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار خالد محمد میانمار کی ’’تحریک آزادی ارکان‘‘ کی جانب سے فراہم کردہ دہشت گردی کی ٹریننگ کا تربیت یافتہ ہے جنہیں پاکستان کی تحریک طالبان کے ماہرین نے ٹریننگ فراہم کی تھی اور وہ دھماکو آلات (آئی ای ڈی) کی تیاری میں ماہر ہے ۔ گرفتار میانمار کے شہری نے مبینہ طور پر بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے کیمپ چلارہا ہے اور بعد ازاں ہندوستان منتقل ہوکر حیدرآباد میں مقیم تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال خالد محمد اپنی والدہ حامدہ بیگم ، بیوی سمیرہ ، دو سالہ لڑکی حبیبہ ،دو بہنیں یاسمین پروین اور فردوس پروین اور 10 سالہ بھائی سلطان کے ہمراہ میانمار سے حیدرآباد براہ دہلی منتقل ہوا تھا ۔چار دن قبل خالد کو حراست میں لئے جانے کے بعد این آئی نے اس کے مکان پر تین مرتبہ دھاوا کیا جس میں لیاپ ٹاپ ، میانمار کا شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات و تصاویر ضبط کرلئے ۔ اس دھاوے میں خالد کے ایک استاد عبداللہ جو میانمار کا شہری ہے کو بھی حراست میں لے لیا تھا لیکن ایک دن کی تفتیش کے بعد اسے رہا کردیا گیا ۔ این آئی اے نے دھاوے کے دوران اس کے مکان سے دہشت گرد ٹریننگ سے متعلق مواد ،بم بنانے کی ترکیب اور داعش کا جہادی لٹریچر برآمد کیا ہے ۔ تحقیقاتی ایجنسی نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ وہ حیدرآباد میں فرضی دستاویزات کی بنیاد پر مقیم تھا ۔ این آئی اے نے خالد کی گرفتاری کے بعد اسے کل رات دیر گئے یہاں کی ایک مقامی عدالت کے جج کے مکان پر پیش کرتے ہوئے اسے دہلی منتقل کیا ہے ۔ خالد محمد کا تعلق مائنمار کے شہر منکڈو سے ہے اور وہ راکھائین ریاست کا متوطن تھا ۔ اس نے عالم ،فاضل کا کورس مکمل کرنے کے بعد حیدرآباد منتقل ہوا جہاں پر وہ روہنگیا پناہ گزیں میں مقیم بچوں کو عربی کی تعلیم دے رہا تھا ۔ اس کا تعلق روہنگیا سالیڈریٹی آرگنائزیشن سے بتایا جاتا ہے اور اس کا رابطہ بنگلہ دیش کے جماعت المجاہدین سے ہے ۔ خالد کی اچانک گرفتاری سے برما کے روہنگیا برادری کے ارکان جو رائل کالونی میں مقیم ہیں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال کے بردوان ضلع میں /2 اکٹوبر کو زبردست دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد بنگلہ دیش کی جماعت المجاہدین کے ارکان کی بڑے پیمانے پرمغربی بنگال میں موجودگی کا انکشاف ہوا تھا ۔ اس کیس کی تحقیقات کو مرکزی وزارت داخلہ نے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کردیا تھا اور یہ ایجنسی مسلسل گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔