نئی دہلی 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )حکومت کو آج ایک نئی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن نے لوک سبھا میں بجٹ پر مباحث کو پیر تک ملتوی کردینے پر حکومت کو مجبور کردیا کیونکہ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی غیر حاضر تھے ۔ ایوان میں آج دوپہر بجٹ پر مباحث ہونے والے تھے تاہم جیسے ہی وزیر مملکت برائے فینانس جینت سنگھ نے اپنی تقریر شروع کی کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور کہا کہ مباحث آج نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ ایوان میں جیٹلی موجود نہیں ہیں۔ملک ارجن کھرگے کی زیر قیادت کانگریس ارکان نے اصرار کیا کہ بجٹ ایک اہم موضوع ہے اور اس پر مرکزی وزیر فینانس کی غیر حاضری میں بحث نہیں ہونی چاہئے ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی پارٹی ارکان پارلیمنٹ سے حکومت کے ارادے کی مخالفت کرنے کیلئے کہتے ہوئے دیکھی گئیں۔ انہوں نے کانگریس ارکان سے کہا کہ مباحث کے آغاز کی ۔ اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ شور و غل کے دوران ایوان کا اجلاس 15 منٹ کیلئے ملتوی کردیا گیا جب اجلاس کا دوبارہ آغاز ہوا تو بحث اور جوابی بحث ایک گھنٹے تک جاری رہی۔
مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ارون جیٹلی حکومت برطانیہ کی دعوت پر مہاتما گاندھی کے مجسمہ کی نقاب کشائی کیلئے لندن گئے ہوئے ہیں۔ اگر کانگریسی ارکان بجٹ پر تقریر کرنا نہیں چاہتے جب تک کہ وہ واپس نہ آجائیں تو دیگر پارٹیوں کے ارکان آج خطاب کرسکتے ہیں۔ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے ان کی تجویز کی تائید کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ مرکزی ومیر فینانس کی موجودگی اتنی اہم نہیں ہے کیونکہ وزیر مملکت برائے فینانس بھی ان کی غیر حاضری میں ان کے مساوی مرتبہ رکھتے ہیں تاہم دیگر اپوزیشن پارٹیوں جیسے ترنمول کانگریس اور بی جے ڈی کانگریس کے ساتھ شامل ہوگئیں اور تقریر کرنے سے انکار کیا۔ اس پر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ اگر ارکان تقریر کرنا نہیں چاہتے تو اسپیکر اجلاس 2.30 بجے دن تک ملتوی کرسکتی ہیں اور دیگر معاملات پر بحث کی جاسکتی ہے ۔ اسپیکر نے ایسا ہی کیا جس کے نتیجہ میں بجٹ پر مباحث پیر تک ملتوی کردیئے گئے ۔ چند دن قبل حکومت کو راجیہ سبھا میں پریشانی کا سامنا ہوا تھا۔