بجٹ سیشنکا دوسرا نصف ‘ راجیہ سبھا کا آئندہ سیشن23 اپریل سے

نئی دہلی 9 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا کے آئندہ سشن کا 23 اپریل سے آغاز ہوگا جبکہ اس سے تین دن قبل بجٹ سشن کے دوسرے نصف میں لوک سبھا کا کام کاج 20 اپریل سے شروع ہوجائیگا ۔ راجیہ سبھا سے جار کردہ ایک اعلامیہ میں یہ بات بتائی گئی ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صدر جمہوریہ نے جمعرات 23 اپریل 2015 کو راجیہ بھا کا اجلاس طلب کیا ہے ۔ یہ سشن 13 مئی 2015 چہارشنبہ کو ختم ہوگا ۔ یہ اعلامیہ ایوان بالا کے سکریٹری جنرل شمشیر کے شیریف نے جاری کیا ہے ۔ راجیہ سبھا کا 235 واں سشن حصول اراضیات بل کو منظوری دلانے کی کوششوں کے دوران شروع ہوگا ۔ مرکزی حکومت اس بل کو منظوری دلانے کیلئے علاقائی جماعتوں سے رابطہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس بل کو غیر این ڈی اے اپوزیشن جماعتوں سے سخت گیر مخالفت کا سامنا ہے ۔ پارلیمانی امور سے متعلق کابینی کمیٹی نے منگل کو وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقدہ اپنے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ راجیہ سبھا کا اجلاس 23 اپریل سے 13 مئی تک طلب کرنے کی صدر جمہوریہ سے سفارش کی جاسکے

تاکہ بجٹ سشن میں بچے ہوئے کام کاج کی تکمیل کی جاسکے ۔ راجیہ سبھا کے 234 ویں سشن کو جو بجٹ اجلاس کا پہلا نصف حصہ تھا 28 مارچ کو ملتوی کیا گیا تھا ۔ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ایوانوں کی بجٹ سشن کے دوسرے حصے میں 13 نشستیں ہونگی ۔ یکم اور 4 مئی کو مئی ڈے اور بدھا پورنیما کے سلسلہ میں تعطیلات ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو راجیہ سبھا کا اجلاس بھی 20 اپریل کو شروع کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا تاہم اسے مزید تین دن اس لئے آگے بڑھادیا گیا تاکہ ارکان کو راجیہ سبھا کے کام کاج کے طریقہ کار کے مطابق اپنے سوالات کی نوٹس دینے کیلئے 15 دن کا وقت دیا جاسکے ۔ راجیہ سبھا کے بجٹ اجلاس کو قبل از وقت 28 مارچ کو اس لئے ملتوی کردیا گیا تھا تاکہ حصول اراضیات آرڈیننس کی دوبارہ اجرائی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ اس آرڈیننس کی مہلت ختم ہونے والی تھی ۔

حصول اراضیات قانون میں ترمیم کے بل کو لوک سبھا میں بجٹ اجلاس کے پہلے نصف میں ہی منظوری دیدی گئی تھی جہاں این ڈی اے کو اکثریت حاصل ہے تاہم راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے اس کی منظوری کو التوا کا شکار کر رکھا ہے جہاں این ڈی اے کو درکار ارکان کی تائید حاصل نہیں ہے ۔ چونکہ دستور کے تحت کسی بھی آرڈیننس کی اجرائی کیلئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں کسی ایک ایوان کا ملتوی رہنا ضروری ہے اس لئے راجیہ سبھا کو ملتوی کرتے ہوئے حکومت نے آرڈیننس کی دوبارہ اجرائی کو یقینی بنایا ہے ۔ یہ آرڈیننس 5 اپریل کو ختم ہونے والا تھا ۔ گذشتہ جمعہ کو اس کی دوبارہ اجرائی عمل میں لائی گئی ہے جس میں نو ترامیم کو شامل کیا گیا ہے جن سے حکومت نے لوک سبھا میں اتفاق کیا تھا ۔ اس سے قبل حکومت نے 27 مارچ کو کابینی کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے ایک اجلاس منعقد کرتے ہوئے راجیہ سبھا کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔