بافندوں کے وظائف کو رد کرنے کی سازش

سرسلہ ۔ 20 ۔ نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) حکومت کا ماہانہ وظیفہ کی منظوری میں جو طرز عمل اپنایا جارہاہے اس کی وجہ سے بنکروں میں مایوسی دلبرداشتگی کی وجہ سے اگر کچھ ہوجائے تو اس کی تمام تر ذمہ داری کے سی آر حکومت پر ہوگی ۔ سابق ایم پی پونم پربھاکر نے سرسلہ شہر میں کانگریس پارٹی کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں مخاطب کرتے ہوئے کہا ، انہوں نے کہا کہ سروے کے نام پر جو وظیفے دیئے جارہے ہیں اس میں کمی کرنے کی سازش ہورہی ہے ۔ سرسلہ کے سبھی مقامی مستحق کپڑا بنکر مزدور مالی حالت سے کمزور ہیں انہیں ہماری حکومت کانگریس ہمت حوصلہ دینے کیلئے وظیفہ دینا شروع کی تھی تو آج تلنگانہ حکومت انہیں رد کرنے کی منصوبہ بند سازش کررہی ہے ۔ جبکہ سرسلہ کے غریب کپڑا بنکر جو عمر رسیدہ ہوچکے ہیں کمزور ہیں تلنگانہ حکومت سے کافی امید لگا رکھی تھی ایسے میں ان کے سفید راشن کارڈ وظیفہ انشورنس کارڈ جانچ کے نام پر منسوخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ 2004 ء میں ہماری حکومت 12 ہزار پنک اور 8 ہزار سفید راشن کارڈ جاری کئے تھے اب اس میں بھاری کٹوتی کیلئے مختلف شرائط لاگو کررہی ہے ۔ بافندوں کپڑا بنکروں کی حوصلہ افزائی کیلئے شواشکتی سنگھموں کے ذریعہ سے 65 کروڑ سے زائد قرض دیا گیا تھا ۔ ریاست بھر میں 3 لاکھ 50 ہزار وظیفہ کی درخواستوں کی وصولی ہوئی اس میں نصف کٹوتی کی حکومت منصوبہ بندی کررہی ہے ۔ ایک مستحق کو بھی قرض کی منظوری نہ ہوئی تو کانگریس پارٹی اس کی جانب سے زبردست جدوجہد کرے گی ۔ حالیہ دنوں حسن آباد میں وظیفہ جات کی منسوخی پر عوام نے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی بات کہی ۔ اس اجلاس میں ڈی سی پی ، چیرمین کے رویندر راو کانگریس پارٹی سرسلہ اور دیگر قائدین شریک تھے ۔