ایک زندگی کا بچانا پوری قوم کو بچانے کے مترادف ہے

شاید ڈاکٹر بدر ایم ظہیر کو ہنگامی حالات میں بے بسی و بے کسی کے عالم میں ہونے والی اموات کا شدید تر احساس ہوا اور ساتھ ہی ایک بہترین ڈاکٹر ہونے کے باعث وہ اس جانب مائل ہوئے ۔ ڈاکٹر بدر ایم ظہیر نے کاکتیہ میڈیکل کالج سے گریجویٹ ‘ کیا اور شکاگوکے یونیورسٹی آف Illinois سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔

انسان نے اپنی سمجھ بوجھ سے دنیا مٹھی میں کرلی ۔ رفتار کو سمیٹنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔ وقت کو زیادہ سے زیادہ اپنے استعمال میں لانے کا گربھی سیکھ لیا مگر اس رفتار اس ترقی اور انھیں حالات نے اسے ہنگامی حالات سے بھی دوچار کردیا ہے ۔زلزلے ‘طوفان ‘ آتش فشاں ‘ سیلاب ‘ طغیانی ‘ سونامی جیسے خوفناک حالات پیدا ہورہے ہیں اور انسان ان حالات سے نمٹنے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ناکام ہے ۔ مگر ایسا نہیں ہے ۔ ہر حال میں بیداری ایک ایسی چیز ہے جس سے حالات سے نمٹنا آسان ہوجاتا ہے ۔ ایمرجنسی کے حالات میں جو انسان ان سے نمٹنا جانتا ہے اسے لوگوں کی بروقت امداد میں مشکل نہیں ہوتی ۔

بیشتر اموات ہنگامی امداد کے بروقت نہ ملنے سے ہوتی ہیں ۔حادثے ہوتے ہیں اور انسان مرتے ہیں محض برقت امداد نہ ملنے کے باعث اور بہت سارے اس سلسلے میں علم نہ ہونے کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔اسٹروک کے شکار مریضوں کیلئے ایک گھنٹے کا وقت ہوتا ہے اور اس کا ایک گھنٹے کے اندر علاج شروع نہیں کیا گیا تو معاملہ سنگین ہوسکتا ہے ۔ ڈاکٹر بدرظہیر نے اس بات کو محسوس کیا اور پھر اس معاملے میں انہوں نے عوام کو Educate کرنے کا فیصلہ کیا اور یہی عزم یہی فیصلہ اور ساتھ میں والدہ کی دعائیں آج انھیں اس سلسلے میں کام کرنے کا حوصلہ بخشتی ہیں ۔ ایمرجنسی میڈیسن پر کتاب کی تصنیف و اشاعت کی اور اس کتاب کو ڈاکٹر صاحب نے اپنے والد صاحب کے نام منسوب کیا ہے ۔ اس کتاب کے موضوع کو لیکر امریکہ اور ہندوستان کے بیشتر تعلیمی اداروں میں خصوصی لیکچر کا اہتمام وقت کے اس شدید تقاضے کی عکاسی کرتا ہے ۔ گو کہ ڈاکٹر بدرظہیر کا یہ عظیم کارنامہ ہے مگر پھر بھی وہ خاکساری کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں ۔

ڈاکٹر بدر ظہیر مارٹن لوتھر کنگ جونیر کے مشہور مقولے کو دہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر میں عظیم الشان پیمانے پر کوئی کام نہیں کرسکتا تو پھر میں ایک چھوٹے کام کو ہی سہی عظیم پیمانے پر کرونگا ۔ لیکن جہاں تک ہمارا خیال ہے 25 سال کے تجربات کا نچوڑ 25 باب پر مشتمل اس کتاب کا تصنیف کرنا کیا یہ ایک واحد مصنف کے بس کی بات ہے ۔ ایمرجنسی حالات میں زندگی بچانے کے لئے ڈاکٹروں اور ماہرین کو مفید مشوروں اور بہترین معلومات پر مبنی ’’ ایمرجنسی میڈیسن ‘‘ میں جسم انسانی کے تمام پہلوؤں پر کھل کر گفتگو کی گئی ہے اور یقینا یہ سیر حاصل بھی ہے ۔اس کتاب میں تمام تر فوکس یعنی نقطہ ارتکاز اس بات پر ہے کہ کیسے زندگی کو خطرے والے مسائل کو فوری اثر کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے ۔ حتمی علاج و معالجے کے چکر میں انتہائی قیمتی وقت کا زیاں کئے بغیر اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب نے ان ہی قواعد اصول و ضوابط کا پاس رکھا ہے اور اس کتاب کی تصنیف کا اہم مقصد’’ ایمرجنسی میڈیسین ‘‘ سے وابستہ تمام افراد کی رہنمائی کرنا ہے ۔ فزیشینس ‘ طب کے طالب علم ‘ نرسنگ پیشہ لوگ وغیرہ اس کتاب سے بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں ۔

21 بابوں پر مشتمل اس کتاب میں نظام جسم کو ٹیبل ‘ چارٹ اور آسان وضاحتوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ ایک عام آدمی بھی ان رہنما اصولوں کو بہ آسانی سمجھ سکے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ علاج کے قومی معیاری اصولوں کی پوری پاسداری کی گئی ہے ۔ دل کے دورہ سے لے کر آفات سماوی تک زندگی کے لئے خطرناک و ہلاکت خیز تمام معاملات کا نہایت ہی حسن و خوبی کے ساتھ اس کتاب میں احاطہ کیا گیا ہے ۔

آخری باب میں دکھایا گیا ہے کہ قدرتی آفات ‘ آگ ‘ بجلی ‘ سڑک حادثات ‘ ریل حادثات میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کو کیسے روکا جائے ۔ کتاب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سماج کے بیچ باہمی تعاون کی اہمیت و ضرورت کو بھی پوری چابکدستی سے اجاگر کیا گیا ہے ۔ تاکہ قانونی پیچیدگیوں میں الجھنے کے بجائے فوری مریض کی جان بچانے کے اقدامات ممکن ہوسکیں ۔ ڈاکٹر بدرظہیر صاحب نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ کتاب اور اس سلسلے میں اٹھائے گئے ان کے اقدامات یقینا ہنگامی حالات کے باعث موت و زیست سے دوچار لوگوں کی زندگی بچانے میں مددگار ہوگی

اور ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب اور اس میں دئے گئے رہنما اصول کے باعث اگر ایک بھی زندگی بچ جاتی ہے تو اس کتاب کے لکھنے کا ان کا مقصد پورا ہوجائے گا ۔ یہ کتاب Jaypee Brothers کوٹھی پر دستیاب رہے گی ۔ مزید تفصیلات bmzaheer@yahoo.com پر حاصل کر سکتے ہیں۔

Leave a Comment