پٹرولیم اشیاء کو جی ایس ٹی دائرہ کار میں شامل کرنے کا مطالبہ
نئی دہلی۔ 7 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 2.50روپئے فی لیٹر کی کٹوتی کو کانگریس نے انتخابات کا سامنا کرنے والی پانچ ریاستوں پر نظر رکھتے ہیوئے دیا جانے والا ’’ لالی پاپ ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور نریندر مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم اشیاء کو جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے ۔ کانگریس کے ایک ترجمان پون کھیرا اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات سے کی گئی اس کٹوتی کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا دوبارہ آغاز ہوگیا جس سے حکومت کی منافقت اور بناوٹ کا اظہار ہوتاہے ۔ کھیرا نے تیل کی قیمتوں کی باضابطگی کو ختم کرنے سے متعلق حکومت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ انتخابی پروگرام پر منحصر ہے کیونکہ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران 17دن تک ایندھن کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی ۔ گجرات انتخابات میں بھی یہی طرز عمل دیکھا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہم اپنے اس مطالبہ کا اعادہ کرتے ہیں کہ پٹرولیم اشیاء کو جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں لایا جائے تاکہ محض انتخابی موسم سے عین قبل ( قیمتوں میں معمولی کٹوتی کے ذریعہ ) کریڈٹ لینے کی بدترین منافقت کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے ‘‘ ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ حکومت قلیل مدتی مفادات کیلئے دکھاوا اور شعبدہ بازی پر یقین رکھتی ہے ۔ کھیرا نے کہا کہ ’’ گھر گھر مودی ‘‘ کے بعد اب ’’ ہائے ہائے مودی ‘‘ ( خدا حافظ) کا وقت آگیا ہے ‘ چنانچہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں شامل کرتے ہوئے عوام کے چہروں پر مسکراہٹ لاسکتی ہے ۔ کھیرا نے وزیر فینانس پر طنز کرتے ہوئے انہیں ہمہ وقتی بلاگر اور جزوقتی وزیر قرار دیا اور ان کے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیا کہ ٹیکس بنیاد میں اضافہ کے سبب حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ بی جے پی حکومت برسراقتدار آنے کے بعد پٹرول پر سنٹرل اکسائز ڈیوٹی میں 211فیصد اور ڈیزل پر 443 فیصد کا اضافہ کی ہے ۔