نئی دہلی ۔ 28 ۔ اکٹوبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بی جے پی نے اترپردیش کی سماج وادی پارٹی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی ورکرس کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر حملہ کے باوجود ایس پی وزیر اعلی اکھیلیش یادو نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ دریں اثناء بی جے پی کے ریاستی ترجمان و جے بہادر پاٹھک نے اس سلسلہ میں گذشتہ دو ماہ کے دوران ایس پی ورکرس کی جانب سے تشدد کے ایک دو نہیں بلکہ چار واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا وزیر اعلی اکھیلیش یادو اپنے قصور وار پارٹی ورکرس کے خلاف کوئی کارروائی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔ پولیس اہلکار کو زد و کوب کرنا اور سرکاری عہدیداروں کو ڈرانا دھمکانا کوئی معمولی جرم نہیں ہے ۔
انہوں نے اس سلسلہ میں 8 ستمبر کے واقعہ کا تذکرہ کیا جہاں ایس پی ورکرس کے ایک ہجوم نے پولیس اہلکاروں کو زد و کوب کیا تھا جب کہ 26 اکٹوبر کو ایک پولیس اہلکار کو پولیس اسٹیشن کے اندر مارا پیٹا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ صرف یہی کافی نہیں ہے بلکہ 25 اکٹوبر کو ایس پی ورکرس کے خلاف معاملہ درج کرنے پر ایک پولیس عہدیدار کا بطور سزا تبادلہ کردیا گیا تھا جب کہ ایس پی کے ایک قائد کے خلاف چالان جاری کرنے پر دو کانسٹبلس کے خلاف کارروائی کی گئی تھی ۔ ان واقعات کی بنیاد پر اکھیلیش یادو کو عوام کے سامنے وضاحت کرنی چاہئے کہ آخر وہ کیا واقعات تھے اور حقیقت میں کون قصور وار ہے ؟ اگر اکھیلیش سمجھتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے ورکرس قصور وار ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کرنے میں انہیں ( اکھیلیش ) ذرہ برابر بھی پس و پیش نہیں کرنا چاہئے ۔ دوسری طرف ڈپٹی انسپکٹر جنرل آر کے چترویدی نے بتایا کہ دو معاملات میں پولیس اہلکاروں کو ان کی خدمات سے اس لیے معطل کیا گیا ہے تاکہ شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جاسکے ۔۔