ایرس جہاں کی امریکہ میں ٹریننگ اور قومی ٹیم کی نمائندگی کا خواب

حیدرآباد ۔ 22 اپریل ۔ ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے کئی کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر نہ صرف ہندوستانی ٹیم کی نمائندگی کی ہے بلکہ چند ایسے نام بھی ہیںجنھوں نے ٹیم کی قیادت بھی کی ہے اور اب حکومت تلنگانہ یا ریاستی وزیر اسپورٹس کی ایک کوشش سے حیدرآباد کی ابھرتی باسکٹ بال کھلاڑی سیدہ ایرس جہاں کی امریکہ میں ٹریننگ اور تلنگانہ سے ہندوستانی ٹیم کی نمائندگی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے ۔ نمائندہ ’سیاست ‘سے خصوصی ملاقات میں ایرس جہاں کے والد سید تقی حسن نے کہاکہ امریکہ میں ان کی ٹریننگ کے لئے ’’انڈیانا ایلیٹ پرپ باسکٹ بال اکیڈیمی‘‘ میں 2 سالہ ٹریننگ کے اخراجات 40ہزار ڈالرس ہیں لیکن ایرس جہاں چونکہ اسکول گیمس فیڈریشن آف انڈیا (ایس جی ایف آئی ) کی سند حاصل کرچکی ہیں لہذا انھیں 2 سالہ اخراجات کیلئے جملہ رقم کا 60 فیصد حصہ بطور اسکالرشپ منظور ہوچکا ہے جبکہ 40 فیصد اخراجات اگر کھلاڑی برداشت کرتی ہے تو پھر ٹریننگ کے اختتام کے بعد ایرس جہاں کی ہندوستانی ٹیم میں شمولیت یقینی ہے ۔ کیندریہ ودیالیہ شیورام پلی، نیشنل پولیس اکیڈیمی کی 10 ویں جماعت کی طالبہ سیدہ ایرس 2011 ء پونے ، 2013 ء گوہاٹی اور 2014 ء گجرات میں نیشنلس کھیل چکی ہیں

جبکہ ایس جی ایف آئی کے لئے منتخب ہونے والی یہ پہلی مسلم لڑکی ہیںجیسا کہ ڈسمبر 2014 ء دہلی میں وہ ایس جی این آئی بھی کھیل چکی ہیں۔ اس باصلاحیت حیدرآبادی کھلاڑی کو کسی اور ریاست سے ہندوستانی ٹیم کی نمائندگی کا موقع بہ آسانی مل رہا ہے لیکن تلنگانہ کی پہلی مسلم باسکٹ بال کھلاڑی کی حیثیت سے وہ قومی ٹیم کی نمائندگی کی خواہاں ہیں۔ اس باصلاحیت کھلاڑی اور ان کے غریب والدین کی اُمیدیں حکومت تلنگانہ سے وابستہ ہیں کیونکہ نئی ریاستی حکومت نے ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کو ریاست کا برانڈ ایمبسیڈر بنانے کے علاوہ ایک کروڑ روپئے کا انعام دیتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اب چند لاکھ روپیوں کے تعاون سے ایک اور حیدرآبادی کا کیرئیر تباناک ہونے کے علاوہ ریاست تلنگانہ اور ہندوستان کا نام باسکٹ بال کے میدانوں میں روشن ہونے کے امکانات موجود ہیں۔