اکھلیش حکومت لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنے میں ناکام

بی جے پی اور کانگریس کی زبردست تنقید

نئی دہلی ۔ 16 ۔ جون (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت نے آج یو پی کی اکھلیش یادو حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کی ناقص صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ کانگریس نے بھی ریاست میں شرپسندوں کے خلاف سخت اقدامات کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس مطالبہ کو سیاسی رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مرکز میں حکومت دوسرے پارٹی کی ہے ، یو پی میں دوسری پارٹی کی ہے ۔ چاہے حکومت کسی بھی پارٹی کی لیکن لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال اگر سنگین ہو تو عوام کا تشویش میں مبتلا ہونا فطری بات ہے ۔ ریاستی وزیر برائے داخلہ کرن ریجوجو نے کہا کہ اگر وہ وزیر داخلہ کی حیثیت سے یہاں کا دورہ کرتے ہیں تو یقیناً ان کے لئے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ دوسری طرف بی جے پی کے سینئر قائد محتار عباس نقوی نے سماج وادی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے۔ ریاست میں بد انتظامی کو صاف صاف دیکھا جاسکتا ہے ۔ دریں اثناء اس معاملہ پر بات کرتے ہوئے کانگریس کے سابق ایم پی راشد علوی نے کہا کہ ہم ریاست یو پی میں لاء اینڈ آرڈر کے تعلق سے بیحد تشویش میں مبتلا ہیں۔ ہم نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار حکومت یو پی سے کہا ہے کہ وہ لاء اینڈ آرڈر کے بارے میں انتہائی محتاط رہے لیکن جو بھی ہورہا ہے وہ بدبختانہ ہے جس کے خلاف کارروائی کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ راشد علوی نے البتہ یہ واضح کردیا کہ وہ ا کھلیش حکومت کا استعفیٰ طلب نہیں کر رہے ہیں کیونکہ سماج وادی پا رٹی اکثریت میں ہے اور اسے حکومت کرنے کا پورا حق ہے ۔ ہم ملک کے آئین کا احترام کرتے ہیں لیکن اکھلیش کو یہ مشورہ بھی دینا چاہیں گے کہ وہ لاء اینڈ آرڈر کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہ کریں اور خاطیوں کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کریں۔