ممبئی ۔ 20 جون (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت داخلہ نے اڈیشہ اسمبلی میں ہندی زبان پر امتناع عائد کرنے کے واقعہ کو افسوسناک قرار دیکر جس تنازعہ کو پیدا کیا ہے اس میں اب بی جے پی کی حلیف جماعت شیوسینا بھی شامل ہوگئی ہے۔ پارٹی کے ترجمان اخبار سامنا میں تحریر کئے گئے ایک اداریے میں کہا گیا ہیکہ اڈیشہ اسمبلی میں اسپیکر نے ہدایت کی ہیکہ ہندی زبان کا استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے ایک لیجسلیچر سے کہا کہ وہ ہندی زبان کا استعمال نہ کریں۔ انگریزی زبان کو اڑیا زبان کے متبادل کے طور پر تسلیم کیا جائے گا لیکن ہندی زبان کو نہیں۔ اداریئے میں مزید کچھ نکات پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ہندی زبان کو ایک باوقار درجہ عطا کیا ہے۔ انہوں نے بھوٹان پارلیمنٹ سے ہندی زبان میں خطاب کیا۔ ایک ایسے وقت جب ہندی زبان کو اہمیت دی جارہی ہے وہیں اڈیشہ اسمبلی میں ہندی زبان کے استعمال پر امتناع ایک حیرت انگیز اور افسوسناک بات ہے۔ اگر وزیراعظم کی حیثیت سے نریندر مودی ہندی زبان کو فروغ نہیں دیں گے توکون دے گا۔ ٹھیک ہے، یہ بات ہم تسلیم کرتے ہیں کہ انگریزی ایک عالمی سطح کی زبان ہے لیکن کیا قومی زبان ہندی کو ثانوی درجہ دینا غیرمنصفانہ نہیں؟