دھرم شالہ (ہماچل پردیش ) /27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کسانوں کو قرضوں کی معافی کی آڑ میں گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ وہ ہماچل پردیش میں جئے رام ٹھاکر کی بی جے پی حکومت کے قیام کے ایک سال کی تکمیل کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے مرکز کی ایک نکاتی اسکیم کے نفاذ پر بھی زور دیا ۔ اپوزیشن پر وزیراعظم کی تنقید صدر کانگریس راہول گاندھی کے اس بیان کے ایک دن بعد منظر عام پر آئی جس میں راہول گاندھی نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی مودی کو اس وقت تک آرام نہیں کرنے دے گی جب تک کہ مرکز ملک گیر سطح پر زرعی قرضوں کی معافی کا اعلان نہ کرے ۔ حال ہی میں منتخبہ مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان کی کانگریس حکومتوں نے زرعی قرضوں کی معافی کیلئے اسکیموں کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے ہماچل پردیش کو دلیر فوجیوں کی سرزمین قرار دیا جو سرحد پر عظیم ترین قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں ۔انہوں نے بحیثیت چیف منسٹر ایک سال کی تکمیل پر ٹھاکر کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ہماچل پردیش میرے مکان کی طرح ہے ۔ میں نے پارٹی کا انتظامی کام کئی سال اس ریاست میں انجام دیا تھا ۔ وزیراعظم اس موقع پر بی جے پی کی ریاستی حکومت کے کارناموں کے بارے میں ایک کتابچہ کا رسم اجراء بھی انجام دیا ۔ ریاستی حکومت نے مرکز اور ریاست زیرسرپرستی اسکیموں کے فوائد کے بارے میں ایک نمائش کا اہتمام کیا ہے ۔ وزیراعظم نے اس کا بھی دورہ کیا ۔ ان کا استقبال کرنے والوں میں چیف منسٹر گورنر آچاریہ دیوورتھ ، سابق چیف منسٹر پریم کمار بھومل ، کانگڑا کے بی جے پی ایم پی شانتا کمار اور مرکزی وزیر صحت پرکاش مدا بھی شامل تھے ۔ وزیراعظم ہماچل پردیش میں جلسہ عام سے خطاب کے بعد تین روزہ دورہ بھوٹان پر وہاں پہونچ گئے ۔ ان کے دورہ میں ہمالیائی مملکت کا ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے ۔ یہ ان کا اولین دورہ بھوٹان ہوگا ۔ ان کا استقبال وزیرمملکت برائے فینانس شیوپرتاپ شکلا نے کیا ۔ ان کا روایتی استقبال جمعہ کے دن کیا جائے گا اور وزیراعظم مودی اسی دن وطن واپس ہوجائیں گے ۔ ذرائع کے بموجب کئی مسائل بشمول بھوٹان کا 5 سالہ ترقیاتی منصوبہ امکان ہے کہ ان کے دورہ کے موضوعات میں شامل ہوگا ۔ وزیراعظم کو اس کی کئی شعبوں میں شراکت داری کا مشاہدہ باہمی دوستی اور تعاون کے پائیدار رشتے دیکھنے کا موقع شیرنگ کے آئندہ دورہ کے موقع پر حاصل ہوگا ۔