بیدر میں محمد ایاز خاں کی صحافیوں سے بات چیت
بیدر17؍مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) انگریزی دنیابھر کے تقریباً 200 ممالک میں بولی جاتی ہے ایسے ہی اردو زبان کے بولنے والے ساری دنیا میں مل جائیں گے۔ اردو کی سربلندی کیلئے میں مہم کا آغازکرنے جارہاہوں ، اور یہ مہم کامیابی سے ہمکنار ہوگی ۔ بنجارہ بورڈ کی طرح اردو ڈیولپمنٹ بورڈ بھی قائم ہو۔اور یہ بورڈ حکومت کرناٹک بید رمیں قائم کرے۔ دراصل اُردوہماری مادری زبان ہے۔ ہمارے ہاں جو بچہ پیدا ہوتاہے وہ اردو ہی بولتاہے۔ یہ بات جناب محمدایاز خان چیرمین نورایجوکیشنل ٹرسٹ بیدر ؍بنگلور نے کہی۔ وہ آج نورکالج موقوعہ حیدرآباد روڈ ، بیدر میں اپنی طلب کردہ پریس کانفرنس میں اردو صحافیوں سے خطاب کررہے تھے۔اُنھوں نے نوراسکول اور کالج میں اردو زبان کوبطور مضمون متعارف کرانے کی بات اردو صحافیوں سے کہی اور بتایاکہ امسال سے ہم نوراسکول اور کالج دونوں میں انگریزی میڈیم میںاُردو بحیثیت زبانِ اول اور کنڑامیڈیم میں اُردو بحیثیت زبانِ سوم پڑھائیں گے۔ایسے والدین جو اپنے بچے کو انگریزی یا کنڑا میڈیم سے پڑھاتے ہوئے ساتھ میں اُردو ایک زبان کے طورپر پڑھاناچاہتے ہیں ، ان کے لئے ہمارے ہاں موقع رہے گا۔ان داخلوں سے ہٹ کر بھی میں کرناٹک کی اُردو ماؤں سے گذارش کرتاہوں کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو اردوپڑھا کر محفوظ کریں ۔ اردو پڑھنے سے بچوں میں تہذیب آتی ہے اور اردولینگویج پڑھنے والا طالب علم ہی کامیاب ہوتاہے۔ جناب ایاز خان نے مزید کہاکہ بیدر میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے سیٹلائٹ کیمپس کایکم جون سے آغاز ہونا چاہئے ۔ اس کیلئے ڈپٹی کمشنر آگے بڑھیں ۔ انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیاکہ محبان اردو کی اسوسی ایشن بناکر ڈپٹی کمشنر دفتر کے سامنے خیمہ ڈال کر اُردو کے حقوق کی بازیابی کیلئے جدوجہد کی جائے گی ۔ پریس کانفرنس میں نور اسکول اور کالج کے پرنسپل عمران سعید بھی موجودتھے۔ واضح رہے کہ نور اسکول اور کالج میں انگریزی اور کنڑا میڈیم میں اردو فرسٹ یاپھر اردو تھرڈلینگویج کے طورپر پڑھنے کے خواہشمندطلبا وطالبات 9945967125پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔