اورنگ آباد میں زعفرانی اتحاد اور نوی ممبئی میں این سی پی کو سبقت

ممبئی ۔ 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن پر شیوسینا ۔ بی جے پی اتحاد نے دوبارہ قبضہ کرلیا ہے جبکہ نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن میں این سی پی واحد بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ تاہم مجلس اتحادالمسلمین (ایم آئی ایم) نے اورنگ آباد میں 25 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے متاثرکن مظاہرہ کیا ہے لیکن کسی بھی جماعت یا اتحاد دونوں میونسپل کارپوریشنوں میں واضح اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہے جہاں پر کل انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ اورنگ آباد میں جملہ 113 نشستوں میں سے 51 نشستوں پر کامیابی سے زعفرانی اتحاد کے اقتدار پر واسپی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں جہاں پر شیوسینا نے 29، بی جے پی 22، کانگریس 10، این سی پی 3، بی ایس پی 5 اور دیگر نے 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں سابق این سی پی وزیر گنیش نائیک نے زعفرانی چیلنج کا پامردی سے مقابلہ کیا اور 53 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ اقتدار پر ان کی پارٹی واپس آجائے گی۔ کانگریس اور شیوسینا ۔ بی جے پی اتحاد کو جملہ 43 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ این سی پی 53، شیوسینا 33، بی جے پی 6 اور دیگر 5 نشستوں پر کامیابی حاصل ہے۔ علاوہ ازیں اورنگ آباد کے میئر کلا اوجھا اور ایک سابق خاتون میئر انیتا گھوڈیلا کو شکست کا مزہ چکھنا پڑا۔ شیوسینا ایم پی چندراکانت کھیرے کے فرزند ہریش کھیش کو کامیابی نصیب ہوئی لیکن کھیرے کے بھتیجہ سچن کھیرے کو ایک آزاد امیدوار راجو شنوائی سے شکست دیدی۔

دریں اثناء چندرا کانت کھیرے نے کہا کہ یہ بہتر ہوتا کہ شیوسینا اپنے ہی بل بوتے پر انتخابی مقابلہ کرتی، جس پر سینئر بی جے پی وزیر ونود توڈے نے کھیرے کے ریمارکس کی ان کو شخصی رائے سے تعبیر کیا۔ مہاراشٹرا میں کل جملہ 7 میونسپل کونسل کیلئے انتخابات منعقد ہوئے اور آج ووٹوں کی گنتی کروائی گئی جبکہ مہاراشٹرا پردیش کانگریس صدر اور سابق چیف منسٹر اشوک چوہان نے ضلع ناندیڑ میں بھوکر میونسپل کونسل پر اپنی برتری قائم کر رکھی اگرچیکہ مجلس اتحاد المسلمین جس کا سیاسی مرکز حیدرآباد میں ہے۔ پہلی مرتبہ اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں 25 نشستوں پر کامیابی کے ذریعہ متاثرکن مظاہرہ کیا ہے لیکن اس کی قیمت سیکولر جماعتوں کو چکانی پڑی کیونکہ مسلم ووٹوں کی تقسیم سے کانگریس اور این سی پی کے امکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ یہ دونوں جماعتیں ہی فرقہ پرست شیوسینا اور بی جے پی سے ٹکرانے کا حوصلہ اور ہمت رکھتی ہیں لیکن زغفرانی اتحاد کی کامیابی سے سیکولر حلقوں میں مایوسی دیکھی جارہی ہے۔ گذشتہ سال مہاراشٹرا کے اسمبلی انتخابات میں مجلس نے اورنگ آباد سے ایک اور بائیکلہ (ممبئی) سے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن حالیہ باندرہ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات میں شکست سے دوچار ہوگئی تھی۔