مریال گوڑہ /18 اگست ( فیاکس ) 28 ویں جشن یوم آزادی کے موقع پر گورنمنٹ یونانی ڈسپنسری پرامری ہیلتھ سنٹر آلاگڈپہ مریال گوڑہ میں قومی پرچم لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ یونانی میڈیکل آفیسرس اسوسی ایشن کے ریاستی معتمد اور تلنگان اسٹیٹ مائناریٹیز ایمپلائیز ، سرویس اسوسی ایشن کے ریاستی نائب صدر ڈاکٹر اے اے خان نے بتایا کہ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کی شروعات 175 میں بنگال کے نواب سراج الدولہ نے کی ۔ اس کے بعد ہزاروں مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بے شمار مصیبتوں کا سامنا کیا ۔ انگریزوں کے ظلم کو سہا یہاں تک کے اپنی جانوں کو تک قربان کیا ۔ ایسے مجاہدین آزادی جنہوں نے انگریزوں کی مکار چار قوم میں تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو کو ناکام بنانے ہندو مسلم اتحاد کو پروان چڑھانے میں اہم ک ردار ادا کیا ۔ مگر ان سیکڑوں مجاہد آزادی کے نام کہیں پر بھی نہیں لئے جانا بہت ہی افسوس ہے جو تاریک کی نذر کردئے گئے ہیں ۔ ہم ہندوستانیوں کو چاہئے کہ ہندوستان کی تاریخ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ بے شمار مسلمانوں نے بھی ہندوستان کو آزاد کروانے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا جس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ 68 ویں جشن یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے ڈاکٹر اے اے خان نے جناب سید نصیر احمد صاحب کی ستائش کرتے ہوئے مبارکباد دی کہ انہوں نے 15 سال کی محنت کے بعد The Immortals کے نام سے ہندوستان میں پہلی مرتبہ 155 مسلم مجاہدین آزادی کی کے کارناموں کو ایک جگہ جمع کرتے ہوئے ایک البم تیار کی ہے ۔ اس البم کو ہر کوئی دیکھنا اور پڑھنا چاہئے ۔ جو آزاد ہاوز آف پبلیکیشنس گنٹور سے شائع ہوئی ہے ۔ جو ایک منفرد البم ہے اور اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ مسلم مجاہدین آزادی کی تاریخ کو نصابی کتابوں میں شامل کرنا بے حد ضروری ہے جس سے ہندو مسلم اتحاد کو فروغ ملے گا ۔ مسلم مجاہدین آزادی کا سفر 1757 میں بنگال کے نواب سراج الدولہ سے شروع ہواکر 1947 میں ختم ہوتا ہے ۔ آج پورا ہندوستان جئے ہند کا نعرہ لگاتا ہے ۔ فخر سے یہ بات کہی جاتی ہے اور حیدرآباد دکن پر ناز کیا جانا چاہئے کہ جناب عابد حسن سافرانی (1911-1984) جیسے مرد مجاہد آزادی کو تلنگانہ میں جنم دیا جنہوں نے جئے ہند کا نعرہ ایجاد کیا ۔ اسی لئے مسلمانوں کو کبھی نظر انداز اور فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ جنہوں نے ملک کی ترقی میں اپنا سب کچھ لٹا دیا ۔