انٹرمیڈیٹ طالب علم کے قتل کا معمہ حل

ایک نوجوان گرفتار، موبائیل فون کیلئے بہیمانہ قتل، رچہ کنڈہ پولیس کا انکشاف
حیدرآباد 16 جولائی (سیاست نیوز) اُپل پولیس نے انٹرمیڈیٹ طالب علم کے بہیمانہ قتل کے معمہ کو حل کرتے ہوئے ایک نوجوان کو گرفتار کرلیا۔ رچہ کنڈہ پولیس نے بتایا کہ 17 سالہ دھاگے پریم ساکن اولڈ رامنتاپور اُپل جوشپ جونیر کالج میں انٹرمیڈیٹ سال دوم کا طالب علم تھا، کی جی پریم ساگر سے دوستی تھی۔ پریم ساگر سابق میں امیزان کمپنی میں ڈیلیوری بوائے کی حیثیت سے ملازمت کرچکا ہے لیکن وہ فی الحال بے روزگار بتایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں وہ معاشی تنگی کا شکار ہوگیا۔ پولیس نے بتایا کہ پریم ساگر نے دھاگے پریم کا موبائیل فون حاصل کرنے کیلئے اُس کے قتل کا منصوبہ تیار کیا تاکہ اُس موبائیل فون کو فروخت کرکے وہ اپنا قرض ادا کرسکے۔ منصوبہ کے تحت 13 جولائی کی شام پریم ساگر مقتول کے کالج پہونچ کر اپنی موٹر سیکل پر اُسے بٹھالیا اور اُس کے مکان چھوڑ دیا اور کچھ ہی دیر بعد پالی ٹیکنک کالج رامنتاپور میں کرکٹ میچ کھیلنے کے بہانے طالب علم کو دوبارہ اپنی ہیرو ہونڈا اسپلینڈر موٹر سیکل پر لے کر ساگر روڈ ونڈریلا آؤٹر رنگ روڈ کی سمت چل پڑا۔ آؤٹر رنگ روڈ کے قریب سنسان علاقہ دیکھ کر پریم ساگر نے طالب علم کے سر پر لکڑی سے مسلسل حملہ کرکے اُسے شدید زخمی کردیا جس کے نتیجہ میں دھاگے پریم بیہوش ہوگیا، کچھ ہی دیر بعد پریم ساگر نے زخمی طالب علم کے جسم پر پٹرول چھڑک کر اُسے آگ لگادی اور وہاں سے فرار ہوگیا۔ طالب علم کے باپ دھاگے سریش نے اُپل پولیس میں اپنے بیٹے کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی تھی جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتول کے موبائیل فون ریکارڈس کی مدد سے ملزم کا پتہ لگایا اور اُس کے مکان واقع ایدولاآباد گھٹکیسر منڈل سے گرفتار کرلیا۔ پولیس نے ملزم کے قبضہ سے مقتول طالب علم کا موبائیل فون بھی برآمد کرلیا۔