انجمن شعرائے دکن حیدرآباد کے زیر اہتمام کامیاب مشاعرہ کا انعقاد

سید جلیل ازہر
جاں گداز تجربات سے گذرنا انسان کی مجبوری ہوتی ہے اور جاں گداز تجربات کو دل گداز شاعری کی شکل عطا کرنا ایک تخلیقی عمل ہے اس جد و جہد میں مختلف لوگوں کی کامیابی کا تناسب مختلف رہا ہے ۔ ادب میں کامیابی کے حصول کے لئے لسانی مہارت کاحصول ضروری ہے جس کے لئے ایک ادیب مختلف علوم کا مطالعہ کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے اندر جو تخلیقی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں ، انہیں بروئے کار لانے کے لئے اس کے پاس الفاظ کا سرمایہ جمع ہونا ادبی خلاقیت کا پہلا زینہ ہے ۔ جیت کی خوشی ، ہار کے غم کے اعتدال کو قائم رکھنا ہی شاعر کا فن ہے ۔ حیدرآباد دکن اپنی روایات اور مخصوص تہذیب کے لئے عالمی سطح پر اپنی ایک منفرد شناخت تو اردو زبان کا اس میں اہم حصہ ہے اور اس زبان کی ترقی و ترویج میں شہر کی عظیم شخصیتوں کی کاوشوں کو بھی ادب کی دنیا کے متوالے کبھی فراموش نہیں کرسکتے ۔ یہ ٹھوس حقیقت ہے کہ شاعروں کے ذریعہ بھی اردو زبان غیر اردوداں طبقہ میں مقبولیت حاصل کررہی ہے ۔ شعراء کے کلام سننے اور سمجھنے کے لئے لوگ اردو سیکھنے کے لئے بے چین ہیں اور کئی لوگ اردو سیکھ رہے ہیں ۔ دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لئے روزنامہ ’’سیاست‘‘ کی کوششوں کو قلمبند کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کئی برسوں سے اردو کو آسان انداز میں لکھنے اور پڑھنے کے لئے اردو کی ترقی کی خاطر تلگو سے اردو ، انگلش سے اردو سیکھنے کا مواد مفت فراہم کیاجارہا ہے اور غیر مسلم طبقہ بھی اردو سیکھ رہا ہے ۔ زبان سے بے پناہ محبت رکھنے والوں کی اس کوشش کا ہر اردوداں کو اندازہ ہے کیونکہ اچھی شاعری بھی ایک تہذیب کو جنم دیتی ہے ۔ آج کی شاعری بھی تسکین قلب ہی نہیں انسانی معاشرہ کے لئے مشعل راہ بن رہی ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دکن کی سرزمین پر ایک سے ایک باصلاحیت شعراء موجود ہونے کے باوجود انہیں ادب کی دنیا میں وہ مقام نہیں مل پارہا ہے

جس کے وہ حقدار ہیں ، پھر بھی اردو سے بے پناہ محبت رکھنے والے اس سرزمین کے شعراء کو ان کا مقام دلانے کے لئے کوشاں ہیں جبکہ اس سلسلہ میں عرب کے تاجر حیدرآباد کا نام اپنے پیشہ میں روشن کرتے ہوئے بھی ادب کا دامن نہیں چھوڑا اور گذشتہ سال مدیر سیاست جناب زاہد علی خان کی زیر سرپرستی میں اپنی جانب سے جناب عبداللہ بن محفوظ نے انجمن شعراء دکن حیدرآباد کی بنیاد ڈالتے ہوئے اردو زبان کے فروغ کے لئے شاعروں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ شروع کیا اور وہ اس وقت سعودی عرب میں موجود ہوتے ہوئے بھی زبان کی تڑپ اور اردو سے لگاؤ کی دلچسپی ہی کا مظہر ہے کہ انہوں نے اپنی تنظیم کے عہدیداروں کو اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے انجمن کی سرگرمیوں کو وسعت اور محسن اردو جناب زاہد علی خان کی سرپرست میں 24 اکتوبر کو محبوب حسین جگر ہال میں ایک مشاعرہ انجمن شعراء دکن حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقد کرنے کا مشورہ دیا ،

جبکہ اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود مدیراعلی سیاست نے اس مشاعرہ کی صدارت فرمائی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے جناب محمد توفیق جو ’’ایک تھا سردار‘‘ فلم کے ہیرو کے ذریعہ اپنی ایک منفرد شناخت بنائی ہے ، انھوں نے حیدرآباد دکن کی مقبولیت میں اضافہ کیا جو خود بھی خاموش فلاحی خدمات انجام دیتے ہوئے اپنے مشن کو آگے بڑھارہے ہیں اس مشاعرہ کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر سلیم عابدی نے بحسن وخوبی انجام دی ۔ ظفر فاروقی مائک سنبھالتے ہی کہتے ہیں۔
ہم کو تلقین بندگی دے کر
اس نے بھیجا ہے زندگی دے کر
امتحانات لے رہا ہے بڑے
ہم کو چھوٹی سی زندگی دے کر
ادب کے ماحول کو حالات حاضرہ کے حوالہ کرتے ہوئے فرید سحر کہہ اٹھتے ہیں ۔
لوٹم لاٹی چل رہی ہے ہر طرف
رشوت خوری پل رہی ہے ہر طرف
شادی کرکے باپ سکوں سے ہے کہاں
اس کی بیٹی جل رہی ہے ہر طرف
اب ہنس مکھ حیدرآبادی مائک پر
بل دکھا کر کہو طبیبوں سے
تم نے مارا ہے زندگی دے کر
اب ناظم مشاعرہ سلیم عابدی خود سامعین کے درمیان چیدہ چیدہ اشعار کے ذریعہ یوں کہتے ہیں ۔
قسم خدا کی انہیں پر خدا کی رحمت ہے
غریب گھر سے جو رشتے تلاش کرتے ہیں
سلیم ان کا مقدر سنور نہیں سکتا
جو ظرف بیچ کے رتبے تلاش کرتے ہیں
اب جناب عارف سیفی نے مائک پر جو فریدآباد سے تعلق رکھتے ہیں لیکن حیدرآبادی تہذیب اور اردو زبان نے انہیں دکن کو اپنا گھر بنانے پر مجبور کردیا وہ یوں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں ۔
ہمیشہ دن کو دن اور رات کو ہم رات لکھیں گے
ہمارے ملک کے جیسے بھی ہیں حالات لکھیں گے
سواء اللہ کے ڈرتے نہیں ہیں ہم کسی سے بھی
جو ہوگی قوم کے حق میں وہی ہر بات لکھیں گے

مشاعرہ کے آخری شاعر اسی اُمّی احمدآبادی جن کا خیال ہے کہ شاعری نہ قدیم ہوتی ہے اور نہ جدید بلکہ اپنے وقت کا آئینہ ہوتی ہے یقیناً ان کی شاعری زندگی کے مختلف رنگوں میں نظر آتی ہے ان کے یہ اشعار اس بات کا ضامن ہیں ۔
مدت سے وہی کچے مکانوں پہ کھڑی ہے
تہذیب تباہی کے دہانے پہ کھڑی ہے
بدلا تھا کبھی جس نے زمانہ کا مقدر
وہ قوم نجومی کی دکانوں پہ کھڑی ہے
امّی احمدآبادی نے ایک اور شعر کے ذریعہ مشاعرہ کو چار چاند لگادیئے ۔ انہوں نے یوں کہا۔
نہ رہا چاند ستاروں کا میں محتاج کبھی
اپنی محنت کی سدا میں نے اجالے دیکھے
تبصرہ اس نے لکیروں کا وہیں چھوڑ دیا
جب نجومی نے میرے ہاتھ میں چھالے دیکھے
مشاعرہ کے آغاز سے قبل تمام شعراء اور مہمانوں کا علی بن صالح لحمدی نے خیرمقدم کیا ۔ مشاعرہ کے اختتام کے بعد مدیراعلی ’’سیاست‘‘ جناب زاہد علی خان ، مہمان خصوصی محمد توفیق کا عبداللہ بن محفوظ صاحب کی جانب سے شکریہ ادا کیا کہ انجمن کے اس مشاعرہ میں عبداللہ بن محفوظ کی غیر موجودگی کے باوجود صدر مشاعرہ اور مہمان مشاعرہ کے اختتام تک موجود رہے ۔

Leave a Comment