انتخابی منشور میںمسلم ایجنڈہ بھی شامل کیا جائے

ورنگل۔17مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلمانوں کو سیاسی تحفظات‘ معاشی طور پر خودمکتفی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی دیگر اقوام کے برابر سرکاری اسکیمات سے فائدہ حاصل کرسکیں ۔ مسلمان انتہائی پسماندگی کا شکار ہے ‘اپنی اپنی پارٹیوں کے مینوفیسٹو میں مسلمانوں کی ترقی کیلئے اہم نکات کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار مختلف سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے ہنمکنڈہ زکریا فنکشن ہال رائے پورہ میں ایم اے مجید اسٹیٹ مسلم کوآرڈینیٹر کی صدارت میں منعقدہ ’’ مسلم گرجنا‘‘ کے موقع پر کیا ۔ اس موقع پر 10نکاتی ورنگل مسلم گرجنا ڈیکلریشن ( اعلامیہ ) کو کنوینر اسٹیٹ مسلم کوآرڈینیٹر ایم اے مجید نے پیش کیا جن میں ملک میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی ‘ عام انتخابات میں علاقہ تلنگانہ میں مسلمانوں کیلئے دو پارلیمنٹ اور ہر ضلع سے ایک اسمبلی ٹکٹ کی فراہمی ‘ مسلمانوں کیلئے بھی علحدہ سب پلان کا قیام ‘ مسلم خواتین کو آبادی کے تناسب سے روزگار اور تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ‘ جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن پر عمل آوری کے اقدامات ‘

قانون ساز کونسل میں ٹیچرس‘ گریجویٹ نشستوں کی طرح اقلیتوں کیلئے بھی خصوصی نشست کی فراہمی ‘ مسلمانوں کے تحفظ کیلئے ضلع کلکٹر ‘ ایس پی کی قیادت میں اجلاسوں کا انعقاد ‘ سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری کیلئے خصوصی ٹاسک فورس کا قیام شامل ہیں ۔ اس موقع پر شہ نشین پر مہاجن سوشلسٹ پارٹی قائدین مدا کرشنا مادیگا ‘ ڈاکٹر محمد ریاض‘ ورنگل سابق ایم پی سرسلہ راجیا ‘ سید ولی اللہ قادری ‘ قومی صدر اے آئی ایس ایف حامد محمد خان ‘ سابق رکن اسمبلی ڈی ونئے بھاسکر ‘ عبدالعلی زبیر ‘ اے او بلوبرڈس فارمیسی کالج و دیگر موجود تھے۔ مسلم گرجنا سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ مسلمانوں کے مسائل کو اپنی اپنی پارٹی ہائی کمان کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اس موقع پر پیش کئے گئے 10 اہم مطالبات کو مینوفیسٹو میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے ۔

اس موقع پر دیگر مسلم قائدین نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں نے آج تک مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔ اس طبقہ کیلئے سب پلان انتہائی ضروری ہے کیونکہ آج مسلمان معاشی طور پر ایس ٹی ‘ ایس سی و دیگر طبقات سے بھی پیچھے ہیں ۔ سیاسی طور پر مسلمان نہ کے برابر ہیں ۔ آزادی کے بعد سے مسلسل مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ گذشتہ کے مقابلہ میں اب مسلمانوں میں کچھ شعور بیدار ہوچکا ہے ۔ سیکولرازم کی بات کرنے والے قائدین مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کیا ٹھوس اقدامات اٹھاتے ہیں ۔ اس موقع پر محمد ابوبکر ایڈوکیٹ ‘ رحیم النساء بیگم ‘ محمد ارشد عام آدمی پارٹی ۔ غلام سرور منا بھائی ‘ محمد سراج احمد ‘ ظہور خالد ( کریم نگر ) ‘ خالد رسول حیدرآباد ‘ مسلم سنگھم و دیگر موجود تھے ۔