مجلس بلدیہ بنگلور کی تین حصوں میں تقسیم کی مخالفت
بنگلور۔/17اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کرناٹک یونٹ نے پروہت بنگلورو مہانگر پالیکا ( عظیم تر مجلس بلدیہ ) کو تین حصوں میں تقسیم کرنے حکومت کے فیصلہ کے خلاف ایک روزہ طویل احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ معلنہ نظام الاوقات ( شیڈول ) کے مطابق انتخابات کروائے جائیں۔ احتجاج کی قیادت بی جے پی کے ریاستی صدر پرہلاد جوشی، اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شیٹر اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر آر اشوک نے کی۔ حکومت نے شہری بلدی ادارہ کو تین حصوں میں تقسیم کے آرڈیننس کو گورنر سے منظوری کرنے میں ناکامی کے بعد20اپریل کو ریاستی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں قانون سازی کیلئے ایک بل پیش کیا جائے گا۔ بی جے پی لیڈر آر اشوک نے کہا کہ اگر حکومت شہر بنگلور کو ترقی دینے کا ارادہ رکھتی تو گزشتہ دو سال کے دوران یہ کام کیا جاسکتا تھا لیکن حکومت نے وقت گذاری کی اور اب بنگلور کو تقسیم کرنے کی کوشش میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس حکومت انتخابات میں شکست کے خوف سے الیکشن ملتوی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس مقصد سے بنگلور کی تقسیم کا حربہ اختیار کیا گیا ہے ۔ حکومت کے اقدام کی اپوزیشن بی جے پی اور جنتا دل سیکولرشدید مخالفت کررہے ہیں جبکہ کرناٹک ہائی کورٹ کے ڈیویژن بنچ نے بھی 30مئی تک عظیم تر مجلس بلدیہ بنگلور کے انتخابات منعقد کرنے سے متعلق سنگل جج کے احکامات پر حکم التواء جاری کرنے سے انکارکردیا ہے۔ مسٹر اشوک نے بتایا کہ اسمبلی میں بل پیش کرنے کی صورت میں بی جے پی اجلاس کا بائیکاٹ کرے گی۔