نئی دہلی ۔ 12 فبروری۔(سیاست ڈاٹ کام) ایک ہندوستانی شہری کے خلاف امریکی پولیس کی جانب سے حددرجہ طاقت کے استعمال کی اطلاعات پر شدید ردعمل میں ہندوستان نے یہ مسئلہ امریکہ کے پاس اُٹھایا اور اس معاملے کی عاجلانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ نئی دہلی میں امریکی ایمبیسی کے ایک سینئر عہدیدار کو امریکہ ڈیویژن کے انچارج وزارت اُمور خارجہ کے عہدیدار نے ساؤتھ بلاک طلب کرتے ہوئے انھیں اس معاملے میں ہندوستان کی تشویش سے واقف کرایا ۔ وزارت اُمور خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے کہا کہ پولیس کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے متعلق میڈیا میں جو رپورٹس آئی ہیں اُس پر حکومت ہند نے اپنی فکرمندی سے واقف کرایا ۔ ہندوستان نے اس معاملے کی تیز تر تحقیقات کی درخواست کے ساتھ انکوائری
اور کاروائی سے متعلق معلومات کے تبادلے پر بھی زور دیاہے ۔ انھوں نے قبل ازیں کہا تھا کہ اٹلانٹا کے کونسلیٹ جنرل پولیس حکام کے ساتھ ربط میں ہے اور تمام تر اعانت فراہم کریں گے ۔ 57 سالہ سریش بھائی پٹیل جو البامامیں اپنے فرزند سے ملنے گئے ہیں ، انھیں پولیس نے اُس وقت شدید زدوکوب کرتے ہوئے جزوی طورپر مفلوج کردیا جبکہ ایسی شکایت کی گئی تھی کہ وہ کئی مکانات کے گیاریجس میں مشتبہ طورپر تانک جھانک کررہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک پولیس آفیسر نے انھیں زمین پر پٹک دیا جس سے انھیں شدید چوٹیں آئیں۔ سریش بھائی کی فیملی نے اس واقعہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے اسے پولیس کے ظلم اور نسلی تعصب پر مبنی حرکت قرار دیا۔ سریش بھائی البامہ کے مضافاتی علاقے میں اپنے فرزند کے پاس کچھ دن گذارنے تقریباً دو ہفتے قبل آئے تھے ۔ گزشتہ ہفتہ جب وہ پڑوسی علاقہ میں پیدل جارہے تھے کہ انھیں پولیس نے روک کر پوچھ تاچھ کی اور جب انھوں نے انگریزی سے ناواقفیت کا اظہار کیا تو اُن کی پٹائی شروع ہوگئی ۔