امداد کی فراہمی کیلئے موضع ساؤلی کے وفد کی ہریش راؤ سے ملاقات

بھینسہ ۔ 12 ۔ مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) بھینسہ شہر اور تعلقہ مدہول کی عوام بالخصوص کسانوں کیلئے آبی ذخائر کے پیش نظر متحدہ آندھراپردیش چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے بھینسہ شہر میں سداواگو پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھا تھا ۔ بعدازاں کانگریس پارٹی برسراقتدار آتے ہی کانگریس چیف منسٹر آنجہانی ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے سال 2006 ء میں اس پراجکٹ کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے گڈنا واگو پراجکٹ کے نام سے موسوم کرتے ہوئے اس پراجکٹ کی تعمیر کو مکمل کروایا ۔ پراجکٹ کی تعمیر کے دوران بھینسہ اور کوبیر منڈل کے مواضعات جنہیں چیچوند ، وائی لنگی ، ، نگوا اورساؤلی کے علاوہ دیگر مواضعات پر منتقل کرنے کیلئے کروڑوں روپئے کی رقم کی منظوری کو عمل میں لاتے ہوئے ان مواضعات کو دوسرے مقامات پر منتقل کیا گیا ۔ لیکن موضع مٹولی کو حکومت کی اس امداد سے محروم رکھا گیا ۔ اس ضمن میں موضع ساؤلی کے سرپنچ سائی کمار اور رمیش مٹولی زیڈ پی ٹی سی کے ہمراہ ایک وفد نے حلقہ اسمبلی مدہول جی وٹھل ریڈی کی قیادت میں ریاستی وزیرآبپاشی ہریش راؤ سے حیدرآباد سکریٹریٹ میں ملاقات کرتے ہوئے موضع ساؤلی کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں سے واقف کروایا اور امید ظاہر کی کہ نئی ریاست تلنگانہ حکومت میں موضع ساؤلی اور موضع کے عوام کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے پراجکٹ کی تعمیر کے دوران موضع کی تبدیلی کیلئے رقم منظور کئے جانے کے وعدے کو پورا کرتے ہوئے موضع ساؤلی کی ترقی اور عوام کے مسائل کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے رقمی امداد کی منظوری کو عمل میں لایا جائے ۔ علاوہ ازیں حلقہ اسمبلی مدہول جی وٹھل ریڈی نے بھینسہ منڈل کے موضع گنڈے گاؤں میں پلیکر رنگاراؤ پراجکٹ کی تعمیر کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے رقم منظور نہ ہونے پر پراجکٹ کی تعمیری کارروائی مکمل نہ ہونے اور موضع باسرگوداوری ندی پر چیک ڈیم کی تعمیر کیلئے منظوری عمل میں لانے اور حکومت کی جانب سے رقم منظور کرتے ہوئے تعلقہ مدہول کی عوام بالخصوص کسانوں کے آبی مسائل کی یکسوئی سے متعلق ایک تحریری یادداشت پیش کی ۔ تعلقہ مدہول کے آبی مسائل سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے ۔ ریاستی وزیر آبپاشی ہریش راو نے ان تمام مسائل کی یکسوئی کو جلد سے جلد عملی جامعہ پہنانے کا تیقن دیا ۔