الور ہجومی تشدد کی لوک سبھا میں گونج، بی جے پی کا احتجاج

مرکز کی ریاستی حکومت سے رپورٹ طلبی ، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
نئی دہلی 23 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان کے ضلع الور میں ایک شخص پر ہجومی تشدد کا مسئلہ آج لوک سبھا میں کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اُٹھایا جس پر بی جے پی ارکان نے احتجاج کیا۔ کانگریس کے کرن سنگھ یادو نے وقفۂ صفر کے دوران یہ مسئلہ اُٹھاتے ہوئے کہاکہ یہ ریاست میں چوتھا واقعہ ہے۔ جو لوگ گاؤ رکھشک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اِس قتل کے پس پردہ ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ بعض بی جے پی ارکان کا احتجاج جو سنائی دے رہا ہے اُنھوں نے بھی پولیس پر وقت کی تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس پر حملہ کیا تھا جس نے مہلوک کو ہاسپٹل منتقل کیا تھا جس کے نتیجہ میں اُس کی موت واقع ہوگئی۔ 28 سالہ اکبر خان کو لوگوں کے ایک ہجوم نے ذبیحہ گاؤ کا مرتکب ہونے کے شبہ میں ضلع الور کے علاقہ لالا وانڈی میں زدوکوب کا نشانہ بنایا تھا۔ قبل ازیں دو پارٹی ارکان جیوتر آدتیہ سندھیا کے ساتھ کٹھوا عصمت ریزی اور قتل مقدمہ کا اور دیگر خواتین کی عصمت ریزی کے واقعات کا حوالہ دینے پر متصادم ہوگئے تھے۔ بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا تھا کہ اِس کے قائدین جو جموں و کشمیر حکومت کے وزراء تھے، ملزم کی تائید میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ بھگوا پارٹی کے ایک رکن اسمبلی پر اُناؤ عصمت ریزی کا الزام ہے۔ اُنھوں نے بھی مدھیہ پردیش کے ضلع منصور میں ایک نابالغ کی عصمت ریزی کا مسئلہ اُٹھایا تھا لیکن اسپیکر سمترا مہاجن نے اُنھیں درمیان میں ہی ٹوک دیا تھا اور اُن پر تنقید کی تھی کہ وہ ایسے واقعہ پر سیاست کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ ایک خاتون ہیں اور ہر مسئلہ پر سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ کانگریس کا حوالہ دیتے ہوئے سندھیا نے کہاکہ 40 ہزار خواتین کی ہر سال عصمت ریزی کی جاتی ہے اور اُن میں سے 19 ہزار نابالغ ہیں۔ آر جے ڈی کے خارج شدہ رکن راجیش رنجن عرف پپو یادو نے تقریر کے دوران ایک ایسی حکومت کی پناہ گاہ میں مظفر پور (بہار) میں لڑکیوں کے جنسی استحصال کا الزام عائد کیا اور اِس کی بی جے پی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے رویندر پانڈے نے بی ایس این ایل موبائیلس کے ناقص ربط برائے بہار اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں کا مسئلہ اُٹھایا۔ مرکزی حکومت نے راجستھان حکومت سے ضلع الور میں گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں زدوکوب کے ذریعہ ہلاک کردیئے جانے کے واقعہ کے بارے میں مکمل رپورٹ طلب کی۔ وزارت داخلہ نے امن بحال کرنے کے لئے تفصیلات طلب کیں اور جلد از جلد رپورٹ روانہ کرنے کی ہدایت دی۔ 28 سالہ اکبر خان کو عوام کے ایک ہجوم نے گائے کا اسمگلر ہونے کے شبہ میں دیہات لالا وانڈی ضلع الور میں زدوکوب کے ذریعہ ہلاک کردیا تھا۔ راجستھان پولیس نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی الور پولیس کی جانب سے متاثرہ شخص کو دواخانہ منتقل کرنے میں تاخیر کے الزام کی تحقیقات کی جائیں۔ اکبر خان کو زدوکوب کے ذریعہ ہلاک کرنے کا واقعہ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے لوک سبھا میں اُٹھایا تھا۔