اضلاع میں جامع سروے کامیاب

منچریال : تلنگانہ حکومت کی جانب سے 19اگسٹ کو تلنگانہ ریاست میں منعقدہ خاندانی سماجی و معاشی جامع سروے مکمل کامیاب رہا ۔ اس موقع پر شہر منچریال میں تعلیمی ادارے ، سینما گھر ، پٹرول پمپ ، تجارتی ادارے ، مارکٹ ، ہوٹلیں ، پان شاپ ، آٹو اور آر ٹی سی بسیں صد فیصد بند رہے ۔ اور عوام پورے جوش و خروش کے ساتھ سروے پروگرام میں حصہ لیا ۔ اور سروے عہدیداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے انہیں مطلوبہ معلومات فراہم کئے ۔ اس موقع پر آر ڈی او منچریال عائشہ مسرت خانم نے تمام ملازمین جنہوں نے اس سروے میں خدمات انجام دی ہیں اور ڈیویژن کے تمام حاندانوں کی کافی ستائش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سروے کام رات دیر گئے تک جاری رہا ۔ صرف چند خاندانوں تک نمائندے نہیں پہنچ سکے ۔ ان کو بھی اس سروے میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ اس خصوص میں آج ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ اس موقع پر میونسپل کمشنر ، تحصیلدار منچریال و دیگر پولیس عہدیدار موجود تھے ۔

مدہول : حلقہ اسمبلی مدہول کے 6 منڈلس مدہول بھینسہ کو ببرکنٹالہ تانور لوکشورم میں جامع گھر گھر سروے صد فیصد کامیابی سے ہمکنار ہوا حلقہ مدہول میں جملہ 110 گرام پنچایت میں 3 ہزار 696 ملازمین کی خدمات حاصل کی گئی ملازمین کی کمی پر ٹربیل آئی آئی ٹی باسر اور مدہول ڈگری کالج شردھا ڈگری کالج کے طلباء و طالبات کو بھی استعمال کیا گیا سروے لسٹ میں صدر خاندانوں کی جملہ تعداد 90 ہزار 540 درج کی گئی تھی لیکن اس سے زیادہ خاندانوں کے سروے مکمل کئے گئے رات دیر گئے تک بھی سروے جاری رہا حلقہ مدہول میں جامع گھر گھر سروے کی وجہ سے سرکاری خانگی ادارے مکمل بند رکھے گئے بلکہ تجارتی سرگرمیاں بھی مکمل بند دیکھی گئی حلقہ مدہول میں سڑکیں کرفیو جیسا منظر پیش کررہی تھی ۔ حلقہ مدہول سے نقل مقام کئے لوگ بھی ایک دن قبل اپنے وطن پہونچ گئے تھے تاکہ اس سروے سے محروم نہ ہوں مدہول منڈل میں 21 گرام پنچایتوں میں 685 ملازمین اور 21 پلاننگ آفیسر 21 سپروائزر کی خدمات حاصل کی گئی ۔ مدہول میں 16 ہزار 917 صدر خاندانو ںکی لسٹ تیار کی گئی تھی اور ایک ملازم کو 25 خاندانوں مختص کئے گئے تھے اور 30 فارم ان کے حوالہ کئے گئے تھے لیکن بعض ملازمین کے پاس 25 سے زائد 30 خاندانوں کا ریکارڈ درج کیا گیا اس طرح 30 سے زائد تجاویز کرنے والے ملازمین اپنی نوٹ بُک میں افراد خاندان کی تفصیلات درج کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ۔ اس طرح حلقہ مدہول میں 90 ہزار 540 سے زائد خاندانوں کے تفصیلات درج کئے گئے اس طرح ووٹرس کی تعداد میں اضافہ بھی ہوگا ۔

بچکنڈہ : ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے جامع خاندانی سروے سے عوام میں بے چینی کا ماحول دیکھا گیا جبکہ کئی خاندانوں کے مکانات پر سروے نمبر الاٹ نہ کرنے پر عہدیداران کو عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑا نمبر الاٹ کرنے کیلئے بچکنڈہ کے کئی خاندان مارکٹ یاڈ میں پہنچ کر اپنے نام اور وارڈ نمبر فون نمبر درج کئے لیکن انہیں سروے کیلئے کوئی بھروسہ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے کئی خاندانوں میں پریشانی اور بے چینی کی کیفیت دیکھی گئی جامع سروے کیلئے مکانات پر آنگن واڑی ورکرس کی مدد سے نمبر ڈالے گئے تھے لیکن ایک گھر میں مقیم دو چار خاندان کو ملا کر ایک ہی نمبر دیا گیا جبکہ اس مکان میں والدین کے علاوہ شادی شدہ لڑکوں کی فیملی کیلئے علحدہ نمبر نہ دینے کی وجہ سے مشکلات پیش آئی ۔ جبکہ حکومت ایک ینومیٹرس کو 30 خاندانوں کو سروے کرنے کی ذمہ داری دی تھی اور حکومت نے کسی خاندانوں کا نام اور نمبر چھوٹ جانے پر نمبر کیلئے عہدیداروں کو الاٹ کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن عہدیداروں نے کوئی دلچسپی نہیں لی ۔ ایم آر او مارکٹ یارڈ میں رہتے ہوئے عوام کی ناراضگی کو دور کرنے کیلئے عہدیداروں کو کوئی ہدایت نہیں دی گئی ۔ ڈپٹی ایم آر او گنگادھر نے عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ۔ بچکنڈہ میں 75 فیصد سروے مکمل کیا گیا ہے اور 25 فیصد سروے باقی ہے ان کیلئے دوبارہ سروے پروگرام منعقد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے عوام جامع سروے سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے سروے سے دو دن قبل دور دراز سے سفر طے کرتے ہوئے اپنے آبائی مقام پر پہنچے ۔ مقام پر پہونچے آرٹی سی بسوں میں عوام کا ہجوم دیکھا گیا ۔ حیدرآباد سے بچکنڈہ 180 کیلو میٹر فاصلہ پر ہے وہاں سے سفر طے کرتے ہوئے ٹھہر کر اور اوپر بیٹھتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ حیدرآباد سے بچکنڈہ آر ٹی سی بس کا ٹارگٹ روزانہ 9000 ہزار روپئے تھا لیکن اس دن آر ٹی سی بس کا ٹارگٹ 19 ہزار سے زائد ہوچکا تھا عوام نے کاروبار ترک کرتے ہوئے اپنا جان و مال لگا کر افراد خاندان کو لیتے ہوئے سفر کی صعبتوں کو برداشت کرتے ہوئے جامع سروے میں حصہ لیا ۔ لیکن سروے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا تمام سرکاری و خانگی ادارے بند رہیں ۔ صبح کے وقت پٹرول پمپ ، بسیں ، تمام دکانیں ، بنکس ، ہوٹلس سب کے سب بند تھے پورے سڑک سنسان نظر آئی ۔