یروشلم، 24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی کابینہ نے گزشتہ روز اسرائیل کو کلی طور پر ایک نسل پرستانہ یہودی مملکت قرار دینے کی منظوری دے کر یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ صرف یہودیوں کی مملکت ہے اور کسی دوسری نسل یا مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا اس میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔ امکان ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ اس بارے میں جلد قانون کی منظوری دے دے گی۔ جس کے بعد اسرائیل میں غیر یہودی شہریوں کا مستقبل پہلے سے بھی نہ صرف مخدوش ہو جائے گا بلکہ وہ اپنے مستقبل کے تحفظ سے قانونی طور پر بھی محروم ہو جائیں گے۔ تجزیہ کار اور لندن میں قائم ادارے ایڈووکیسی گروپ فار عرب برٹش انڈر اسٹینڈنگ کے ڈائریکٹر چریس ڈوئیل نے ’ العربیہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’ اسرائیل میں عرب آبادی کا 20 فیصد پارلیمنٹ میں اس متوقع بل کے مخالف ہوں گے کہ اس بل سے عربوں کی عمومی اکتاہٹ میں اضافہ ہو گا‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کوشش سے عرب شہریوں میں گھبراہٹ اور پریشانی کا بڑھنا فطری ہے جو پہلے ہی پائی جاتی ہے۔ ڈوئیل نے کہا کہ یہ واقعہ ایک ایسی ریاست میں پیش آ رہا ہے جہاں غیریہودی شہری اپنے وطن سے محروم کر دیئے گئے ہیں، اپنے گھروں سے محروم کر دیئے گئے ہیں، جنہیں بہت سارے حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے ، یہ پوری دنیا کیلئے ایک منفی رجحان سازی کی کوشش بھی ہے۔ کل اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کا منصوبہ یہ نظر آیا ہے کہ وہ ایک منظم انداز میں متوقع بل کے حق میں ووٹنگ کا امکان یقینی بنائیں گے۔ اخبار ‘یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل یہودیوں کا قومی گھر ہے ، جس میں برابر کے حقوق صرف یہودیوں کیلئے ہیں ، جن کا پرچم ہے ، جن کا ترانہ ہے، اس لئے پوری دنیا سے ہر یہودی کا یہ حق ہے کہ یہودی اس ریاست میں منتقل ہو۔