ورنگل کی مختلف تنظیموں کے ذمہ داران اور قائدین کا بیان
ورنگل/21 مئی (سیاست ڈسڑکٹ نیوز)ریاستی وزیر اعلی کے چندرشیکھر رائو کی جانب سے اردو زبان کو ریاست تلنگانہ میں بحیثیت پہلی سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز کو منظوری دئے جانے پر ضلع ورنگل کے مختلف اردو حلقوں نے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا۔ ایوان ادب صوبیداری میں انجمن ترقی اردو، تحریک قلم ،ادارہ ادب اسلامی، بزم محمدی، الفیضان ایجوکیشنل سوسائیٹی، گلشن ادب، بزم ابولخیرات کے ممبران نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے وزیر اعلی کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا۔ دبئی سے ڈاکڑ بہادر علی موظف پرنسپل اسلامیہ ڈگری کالج ، ایڈوکیٹ اجمل محسن، م م محشر،اقبال شیدائی سعودی عرب سے ، ڈاکڑ عزیز احمد عرسی، مصلح الدین نواز،خلیق الزاماں حسیب، شرف الدین محمودی نائب صدر ہدایت ایجوکیشنل سوسائیٹی اقبال درد، حمید عکسی، شیخ بندگی، صابر عالم، خواجہ حسن شریف محبوبہ ایجوکیشنل سوسائٹی و پی جی کالج، طوفیق الرحمن (سوٹا) ، خواجہ غظیم الدین (ٹوٹا) ، وحاج الحق، فیاض محمودی، محمد زبیرمالک زبیر بک اسٹال ،محمد حبیب الدین موطف لیبر آفسر، محمد سراج احمدمسلم ویلفیر، نذیر پرواز ، محمد ایوب خان قاضی پیٹ ،محمد حامد حسین، نے خیر مقدم بیان درج کرتے ہوئے حکومت سے خواہش کی کہ وہ اس فیصلہ پر فوری عمل آوری کریں ۔ اسی طرح ورنگل اردو صحافی یونین کے صدر ایس ایم سعید ، ایم اے نعیم، جمال شریف، اسماعیل ذبیح ،اختر حسین اختر، علیم نانش، خواجہ ناظم الدین ، محمد حسین پاشاہ اور محمد اکبرضیا نے ریاستی حکومت کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ۔دانشوران فورم کے صدرڈاکڑ انیس احمد صدیقی نے ریاستی حکومت کی جانب سے اردو کو پہلا درجہ دئے جانے کے فیصلہ کو خوش آئند اقدام قرار دیا اورکہا کہ اردو کے تما م مخلوعہ جائیدادوں کو فوری طور پر پر کرنے کا مطالبہ کیا۔