اردو ٹیچرس کی جائیدادوں کو منظور کرنے کا مطالبہ

نظام آباد:22؍ نومبر(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ریاستی حکومت تلنگانہ ٹیچرس کے تقررات ڈی ایس سی کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ جس کے بعد ٹیچرس اہلیتی ٹسٹ اور ڈی ایس سی امتحان کو علیحدہ یا یکجا کرنے کیلئے غور و خوص کیا جائیگا۔ ریاست کے ٹیچرس کی نمائندہ تنظیم پی آر ٹی یو کے قایدین خواجہ معین الدین، سید احمد بخاری، اسرار احمد، عارف الدین، افضل بیگ نے بتایا ہے کہ ریاست تلنگانہ کے سینکڑوں اسکولس میں اُردو کی ہزاروں جائیدادیں منظور شدنی ہے۔ اُردو اسکولس پر مستقل ٹیچرس کے نہیں ہونے سے طلباء معیاری تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ان قائدین نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے ایک اندازہ کے مطابق 13 ہزار مخلوعہ جائیدادیں بتارہی ہیں جبکہ خصوصاً اُردو اسکولس کیلئے فی جائیدادوں کی منظوری ضروری ہے۔ ریاست تلنگانہ کے کئی پرائمری اسکولس میں ایک بھی مستقل ٹیچر موجود نہیں ہے اور کئی سرکاری، ضلع پریشد ہائی اسکول ایسے ہیں جہاں پر مضمون واری ٹیچرس کی شدید کمی ہے۔ جس سے طلباء کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیںاور دسویں جماعت کے نتائج بھی حوصلہ شکنی برآمد ہورہے ہیں۔ جبکہ ریاستی حکومت تعلیم پر خاص توجہ دینے کیلئے کروڑہا روپئے خرچ کرری ہے۔ ان قائدین نے مزید بتایا کہ وہ اس خصوص میں ریاستی قائدین پی آٹی یو کے علاوہ سابق ٹیچرس ایم ایل سی موہن ریڈی سے نمائندگی کرینگے کہ ریاستی حکومت اُردو میڈیم ٹیچرس کی نئی جائیدادوں کو منظور کرتے ہوئے ڈی ایس سی 2015 ٹیچرس کے تقررات کا اعلامیہ جاری کریں۔