ورنگل/20 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) زیرِ اہتمام انجمن ترقی اردوشاخ ضلع ورنگل کی جانب سے ریاست کے مشہور و معروف شاعر و مصنف اجمل محسن کی تہنیت میں شب غرل و مشاعرہ بمقام ایوان غزل( ایوان ادب) صوبیداری ہنمکنڈہ میں منایا گیا۔ ڈاکڑ بہادر علی موظف پرنسپل اسلامیہ آرٹس اینڈ سائینس کالج ورنگل کی زیر صدارت میں ہونے والے اس پروگرام میں مشہور شاعر اجمل محسن اور این آر آئی محمد قادر محی الدین شاروخ صاحب نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ مشہور مصنف فضل جاوید ، بانی و صدر بزم محمدی و شاعر جناب تاج مضطر ، بانی و صدر گلشن ادب وحید گلشن ، محمد مجاہد کنوینر ویلفیر پارٹی ضلع ورنگل اور این آر آئی محمد فیاض غالب بطور مہمان اعزازی شرکت کی۔پروگرام کے آغاز میں ڈاکڑ ابو طلحہ مجاہد نے تلاوت کلام پاک اور حمد پیش کی۔پروگرام کے صدر ڈاکڑ بہادر علی نے پروگرام کے عروس شاعر و مصنف اجمل محسن کی شخصیت اور انکی مجموعہ کلام پھول ہی پھول، بغیا کے پھول اور گل بوٹے تصنیفات پر جامعی معلومات پیش کئے اور مصنف کی شاعری کے مزاج کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں سماج کی رویداد کو افسانے کی شکل دینا اور انسانی کرب و فکر کو شاعری میں ڈھالناا اپنے اپ میں خدا داد صلاحیت ہے۔ گل بوٹے کے مصنف فضل جاوید نے اس موقع پر اجمل محسن کی شخصیت و مزاج پر اپنے خیالا ت پیش کئے بحثیت مصنف انہوں نے اجمل محسن کے شاعری مجموعہ کلام بغیا کے پھول کی بڑی سراہانہ کی اور خاص کر موصوف کی تصنیف گردش دوران کے انداز کتابت کی پزیرائی کی۔اس موقع پر این آر آئی محمد قادرمحی الدین شاروق نے کہا کہ بڑی محنتوں اور کافی وقت صرف ہونے کے بعد ہی اسطرح کے مجموعہ کلام اور نافسانوں کی اشا عت ہوتی ہے۔
اگر ان کتابوں کو اہل اردو زبان نہ پڑھیں تو کون پڑھیگا۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان اس وقت ایک عالمی پہچان بناتے ہوئے اپنا مقام لینے میں کمر بست ہے۔ فروغ اردو فکر رکھنے والوں کے لئے مسرت کی بات ہیکہ اس نئے سوفٹ ویر کے دور مین عرب ممالک میں کامیاب اردو مشاعرہ انعقاد ہ ہوتے ہیں اور عرب ممالک میں اردو جریدے اور روزنامے شایع ہوتے ہیں جو باعث حوصلہ مند ہیں۔ ہم اردو مادری ربان رکھنے والے حضرات اردو کتابیں پڑھنے اور اپنے بچوں کو بھی پڑھانے پر توجہ دینا وقت کا اہم فریضہ ہے کیوںکہ اردو ہمارے لئے قرآن فہمی ، ہماری تاریخ، تہذیب سے آشنا ہونے کے لئے ایک ذریعہ ہے۔گل پوشی کے بعدمشاعرہ کا آغاز ہوا جسمیں سب سے پہلے ورنگل کے مشہورشاعر سید نذیر پرواز نے اپنا کلام پیش کرکے سامعین سے زبردست داد حاصل کی۔بانی و صدر بزم محمدی و شاعر تاج مضطر نے اپنی دو غزلیں پیش کی اور نوجوان سامعین بے حد داد حاصل کی۔وحید گلشن نے اپنی تازہ غزل سنا کر سامعین کو محظوظ کیا۔محمد اکبر ضیا نے منفر د اشعار اور غزل سنا کر داد حاصل کی۔اجمل محسن نے بغیا کے پھول سے اپنی پسندیدہ غرلیں سناکر ماحول کو فرحت بخشی۔اس پروگرام کے دوسرے حصہ میں اجمل محسن کی لکھی ہوئی غزلوں کو سینیر صحافی ایس ایم سعید ، ڈاکڑ ابو طلحہ مجاہد، محمد اکبر ضیا، اختر حسین اخترنے موسیقی کے ساتھ اپنی آواز میں پیش کیا بعد ازان انجینر ماجد خان، سید رفیع الدین بھی غزلیں پیش کیں۔ نظامت کی ذمہ داری ڈاکڑ ابو طلحہ مجاہد نے سنبھالی اس پروگرام کے اختتام سے پہلے اردو صحافی ایم اے نعیم نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام کا انعقا کرنا معیاری اردو اورشاعری کا ذوق نئی نسل تک منتقل کرنیکی یہ ایک اچھی پہل ہے اور اسکی ذمہ داری دور رواں کے شعراء پر عائد ہوتی ہے۔اس پروگرام میں بطور خاص مدوعین محمد ابوبکر، محمد حبیب الدین موظف لیبر آفسر،خواجہ شکیل احمد ، محمد زبیر ِحامد حسین،محمد حسین پاشاہ ،سید خواجہ نظام ،مجیب الدین ،عبدالرحمن،شفیع الدین اور سید مظہر شامل ہیں۔محمد عبدالنعیم کے کلما ت تشکر کے ساتھ پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔