ادارۂ ادبیات اُردو ادارے کی ترقی واستحکام کیلئے ڈاکٹر زور کی مساعی

ڈاکٹر سید داؤد اشرف آرکائیوز کے ریکارڈ سے
ریاست حیدرآباد کے آخری دو حکمرانوں پر محبوب علی خاں آصف سادس اور میر عثمان علی خاں آصف سابع کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بیرونی اور غیرملکی شخصیتوں اور بیرون ریاست کے ادارہ کے لئے ان کی سخاوت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے تھے اور نہایت فراخ دلی کے ساتھ نوازش اور کرم کی بارش ہوا کرتی تھی لیکن ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور کی حیات اور کارناموں پر نظر ڈالیں اور خاص کر ادارہ ادبیات اردو کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس فیاضی کا مظاہرہ استحقاق کی بنیاد پر کیا جاتا تھا ، نہ کہ امتیاز کی بنیاد پر۔ اندرون ریاست کام کرنے والی ملکی شخصیتوں اور اداروں نے اس مدد اور تعاون سے کم یا بہت کم استفادہ کیا تو اس کے اسباب دوسرے تھے۔ یہ اسباب و حقائق اس مضمون کا موضوع نہیں ہیں لیکن جہاں تک ڈاکٹر زور بانی ادارۂ ادبیات اردو کا تعلق ہے۔

سرزمین دکن پر ان کے فقیدالمثال کارناموں میں یہ کارنامہ بھی کچھ کم اہمیت نہیں رکھتا کہ انہوں نے اپنے ادارے کے لئے اور اس کی عمارت کی تعمیر کے لئے جہاں دیگر وسائل سے استفادہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ حکومت ریاست حیدرآباد سے بھی خاطر خواہ امداد حاصل کی اور اس امداد میں اضافے کے سلسلے میں بھی اپنی جدوجہد کو کامیاب بنایا۔ ریاست حیدرآباد کے آخری دور میں حالات مشکل اور نامساعد نہ ہوتے تو یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ وہ اس ادارے کو اس دور میں ہی غیرمعمولی ترقی دینے میں کامیاب رہتے۔ اردو زبان اور ادب کی اس فعال شخصیت کی ان کاوشوں کی تفصیلات آندھرا پردیش اسٹیٹ آرکائیوز کے محافظ خانے کے ریکارڈ میں دستیاب ہیں۔
ڈاکٹر زور کی درخواستوں پر ادارۂ ادبیات اردو کی امداد میں اضافے اور پریس خریدنے کے لئے پچاس ہزار روپئے کی امداد منظور ہوئی تھی۔ ذیل میں ان کارروائیوں کا خلاصہ اور امداد سے متعلق معلومات پیش کی جارہی ہیں۔

ادارۂ ادبیات اردو حیدرآباد کی امداد سے متعلق ادارے کے معتمد اعزازی سید محی الدین قادری زور نے 1943ء میں حکومت ریاست حیدرآباد کے نام اپنی ایک درخواست میں لکھا تھا کہ یہ ادارہ گزشتہ بارہ سال سے اردو کی ہمہ جہتی خدمت انجام دے رہا ہے۔ ادارے کے مالیے کا بڑی حد تک خانگی عطیوں پر انحصار ہے۔ صرف گزشتہ تین سال سے محکمہ تعلیمات سے تین ہزار دو سو روپئے سالانہ امداد مل رہی ہے جبکہ ادارہ اردو کی خدمت کے لئے گزشتہ سال میں اوسطاً بارہ ہزار روپئے سالانہ خرچ کرتا رہا۔ اگر حکومت کی جانب سے اس ادارے کو قابل لحاظ سالانہ امداد عطا نہ کی جائے اور اس کے لئے ایک سرکاری عمارت فراہم نہ کی جائے تو ادارے کی کارکردگی اور سرگرمی باقی نہیں رہ سکتی۔

یہ ادارہ ہندوستان کے مشترکہ قومی تمدن اور اُردو زبان کی خدمت بلالحاظ مذہب و ملت انجام دے رہا ہے چنانچہ اس کے ارباب کار میں حیدرآباد اور دیہات کے سینکڑوں غیرمسلم اصحاب بھی شریک ہیں۔ ادارے کے نومختلف شعبوں کی ترقی کے لئے بھاری رقومات درکار ہیں۔ ان نو شعبوں میں تعلیم بالغان، اشاعت کتب، قیام کتب خانہ، تحفظ علمی و ادبی آثار، میوزیم، شعبہ نسوان، تیاری اردو انسائیکلوپیڈیا، ماہنامہ کی اشاعت اور دفتری کاروبار کے شعبے شامل ہیں۔ ایسے وسیع اور عمدہ خدمات کے پیش نظر ادارے کا سالانہ موازنہ کم از کم پچاس ہزار روپئے ہونا چاہئے تاکہ بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس میں توسیع و ترقی کی گنجائش رہے۔ فی الحال حکومت کی جانب سے 32 ہزار روپئے سالانہ کی مالی امداد اس علمی و ادبی ادارے کی ترقی کا باعث ہوگی اور یہ امر حکومت کے لئے دشوارکن نہیں ہے کیونکہ حکومت ریاست حیدرآباد کی جانب سے بیرونی ریاست کے متعدد اداروں کو اس سے بھی زیادہ امداد دی جاتی رہی ہے۔

ڈاکٹر زور کی درخواست پر معتمد تعلیمات نے اس رائے کا اظہار کیا کہ یہ ادارہ اردو زبان کی خدمت کررہا ہے اور اپنی افادیت کا ثبوت دے رہا ہے۔ اس لئے یہ ادارہ امداد کا مستحق ہے۔ علم و ادب کی سرپرستی حکومت کا طرۂ امتیاز رہی ہے۔ اس ادارے کی مدد حکومت ریاست حیدرآباد کی روایات کے مطابق ہوگی لہذا اس ادارے کو سالانہ بارہ ہزار روپئے امداد کی منظوری مناسب ہوگی جو اس وقت تک جاری رہے جب تک اس کا کام حکومت کی رائے میں تشفی بخش ہو۔

امداد کی یہ شرط بھی ہونی چاہئے کہ اس ادارے کی اعلیٰ ترین مجلس میں بالا التزام جامعہ عثمانیہ کا ایک نمائندہ منظورۂ سرکار اور ناظم تعلیمات بحیثیت رکن شریک رہیں نیز ادارے کے کتب خانے یا علمی ذخیرے سے محققین ادب اور تاریخ کو استفادے اور ریسرچ کا موقع منظورہ شرائط کے تحت دیا جائے۔ یہ شرط اس لئے بھی ضروری ہے کہ حال ہی میں انڈین ہسٹاریکل ریکارڈز کمیشن نے اس امر پر زور دیا ہے کہ ایسے امدادی اداروں کے ساتھ یہ شرط عائد کرنا تحقیقی کاموں کے لئے ضروری ہے جن کے پاس کوئی علمی یا تاریخی ذخیرہ موجود ہو اور اس ادارے میں اس وقت ایسا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ مجوزہ اضافہ رقم کی نسبت یہ پابندی بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اس کا نصف حصہ ایک بلڈنگ فنڈ کے لئے مختص کردیا جائے جو ادارے کی نئی اور مستقل عمارت کی تعمیر اور اس کے فرنیچر خصوصاً اس کے کتب خانے کے فرنیچر کے لئے محفوظ رہے۔ سر رشتہ فینانس نے ادارہ ادبیات اردو کو تین ہزار دو سو روپئے سالانہ کی موجودہ مالی امداد کی بجائے دس ہزار روپئے سالانہ امداد دینے سے اس شرط کے ساتھ اتفاق کیا کہ

اس ادارے کی کارکردگی آئندہ بھی حکومت کے نزدیک اطمینان بخش رہے گی اور ادارہ اپنی مطبوعات کے دو نسخے سر رشتہ تعلیمات کو فراہم کرے گا۔ اس کے حسابات کی باضابطہ تنقیح دفتر صدر محاسبی سے کرائی جائے گی اور ادارے کی سالانہ رپورٹ سررشتہ تعلیمات میں داخل کی جائے گی۔ اس سال یہ اضافہ زائد از موازنہ اور آئندہ سال شریک موازنہ کیا جائے۔ باب حکومت (کابینہ) نے اس کارروائی کے پیش ہونے پر ادارہ ادبیات اردو کو موجودہ تین ہزار دو سو روپئے سالانہ کی بجائے دس ہزار روپئے سالانہ امداد جاری کرنے کی سفارش کی نیز باب حکومت نے معتمد تعلیمات اور سررشتہ فینانس کی جانب سے تجویز کردہ شرائط سے بھی اتفاق کیا۔ آصف سابع نے باب حکومت کی رائے کے مطابق فرمان مورخہ 24 جنوری 1944ء کے ذریعہ ادارہ ادبیات اُردو کی امداد کو بشرائط مجوزہ تین ہزار دو سو روپئے سے بڑھاکر دس ہزار روپئے سالانہ کردینے کی منظوری دی۔

ادارے کی امداد میں اضافہ منظور ہونے کے تقریباً ڈھائی سال بعد ڈاکٹر زور نے ایک اور درخواست حکومت ریاست حیدرآباد کو پیش کی جس میں انہوں نے لکھا کہ اس ادارے کی جانب سے مختلف علمی و ادبی موضوعات پر اب تک ڈیڑھ سو کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور نو سال سے ہر ماہ دو رسالے شائع کئے جارہے ہیں۔ روز بروز بڑھتی ہوئی طباعتی ضروریات کے پیش نظر ادارے کو ایک اعلیٰ پائے کے ٹائپ پریس کی شدید ضرورت ہے اور اس کے لئے ادارے نے رقم جمع کرنی شروع کردی ہے۔ توقع ہے کہ ادارہ پبلک چندوں سے پچاس ہزار روپئے کی رقم جمع کرسکے گا۔

اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایک اچھے پریس کے لئے ایک لاکھ روپئے سے زیادہ صرفہ ہوگا۔ اس لئے حکومت سے استدعا ہے کہ مطبع کے قیام کے لئے پچاس ہزار روپئے کی امداد منظور کرے۔ صدر الہام فینانس نے اس درخواست پر رائے دیتے ہوئے لکھا کہ ادارۂ ادبیات اردو مفید خدمات انجام دے رہا ہے اور اس ادارے میں ایک اچھے مطبع کے قائم ہوجانے سے اردو ادب کی توسیع و اشاعت میں بڑی مدد ملے گی۔ جہاں تک ان کے ذاتی تجربے کا تعلق ہے، وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حیدرآباد میں طباعت کی اطمینان بخش سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ اگر جدید طرز کے مطبع کو قائم کرنے میں امداد دی جائے تو اس میں نہ صرف عوام بلکہ حکومت کا بھی فائدہ مضمر ہے۔ اس لئے یہ امداد حسب ذیل شرائط کے تحت منظور کی جاسکتی ہے۔
(1) امداد کی رقم ادارے کی طرف سے جمع کردہ رقم سے متجاوز نہ ہوگی۔
(2) امداد کی رقم کسی صورت میں بھی پچاس ہزار سے زائد نہ ہوگی۔
(3) ادارے کو مجموعی خرچ سے متعلق تفصیلی تختے جات پیش کرنے ہوں گے۔
(4) عائد شدہ اخراجات کی تنقیح حکومت کی جانب سے ہوا کرے گی۔
(5) امداد کی رقم یکمشت ادا نہیں کی جائے گی بلکہ جتنی بھی اور جب بھی ضرورت ہوگی، رقم کی ادائیگی عمل میں آئے گی۔ صدر المہام تعلیمات نے صدر المہام فینانس کی رائے سے اتفاق کیا ۔ باب حکومت کے اجلاس میں صدر المہام فینانس کی رائے کے مطابق امداد کی منظوری صادر کرنے کے بارے میں قرارداد منظور کی گئی۔ اس قرارداد پر آصف سابع نے اپنے فرمان مورخہ 23 ستمبر 1946ء کے ذریعہ ہدایت دی کہ ادارۂ ادبیات اردو کو سررشتہ فینانس کی پیش کردہ شرائط پر مجوزہ امداد دی جائے۔

پریس کے قیام کی غرض سے حکومت کی اس پچاس ہزار روپئے کی منظورہ امداد سے استفادہ نہیں کیا جاسکا کیونکہ اس سلسلے میں شرط عائد کردی گئی تھی کہ ادارے کی جانب سے جمع کردہ رقم کی مساوی رقم حکومت کی جانب سے جاری کی جائے گی۔ یہ رقمی منظوری 1946ء میں دی گئی تھی۔ اس وقت اور اس کے بعد دو سال کے دوران ریاست جن حالات سے دوچار تھی، ان حالات میں علمی، ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں کا سنجیدگی کے ساتھ جاری رہنا بے حد مشکل تھا۔ ادارے کی جانب سے شائع کردہ ایک کتابچے ’’ادارۂ ادبیات اردو کے تیئس سال‘‘ میں لکھا ہے‘‘ 1947ء تا 1949ء تک کا دور ادارہ کے لئے بڑا نازک دور رہا۔ اضلاع کی شاخیں تقریباً معطل ہوگئیں۔ کتابوں کی اشاعت اور امتحانات کے کاروبار بھی متاثر ہوئے اور اس کے نتیجے میں ادارے کی ترقی کی رفتار میں ٹھہراؤ پیدا ہوگیا‘‘۔ ظاہر ہے کہ ان حالات میں ادارے کی جانب سے پریس کے قیام کے لئے چندوں سے رقم اکٹھا کرنا ممکن نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت سے اس سلسلے میں مساوی رقم یا Matching Grant حاصل نہیں کی جاسکی۔

ایوان اردو کی خوب صورت عمارت کی تعمیر میں حکومت ریاست حیدرآباد کی جانب سے محفوظ کی گئی رقم کام آئی۔ جنوری 1944ء میں ادارۂ ادبیات اردو کی امداد بڑھاکر دس ہزار روپئے سالانہ کردی گئی تھی مگر اس رقم کا نصف حصہ بلڈنگ فنڈ کے لئے مختص تھا چنانچہ 1944ء تا 1948ء پانچ ہزار روپئے سالانہ بلڈنگ فنڈ میں محفوظ کئے جاتے رہے۔ ایوان اردو کی عمارت جس زمین پر کھڑی ہے، وہ ڈاکٹر زور کی اہلیہ کی ملک تھی۔ ان کی جانب سے یہ اراضی بطور عطیہ دی گئی۔ عمارت کی تعمیر کے لئے وہ رقم جو پانچ سال سے حکومت کی طرف سے محفوظ کی جارہی تھی، حاچل کرلی گئی۔ ڈاکٹر زور نے ایوان اردو کی افتتاحی تقریب منعقدہ 22 مارچ 1960ء میں جو تقریر کی تھی، اس میں اس کا تذکرہ ملتا ہے، تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ حکومت ریاست حیدرآباد کی متذکرہ امداد اس عمارت کے جملہ مصارف کا ایک حصہ تھی۔ دیگر مصارف کی پابجائی دوسرے وسائل سے کی گئی جن میں اراضی کا عطیہ بھی شامل ہے۔

Leave a Comment