اخلاقی اقدار کا فروغ ، سماج کی اہم ضرورت

ظہیرآباد /7 جنوری ( راست ) اخلاقی اقدار کا فروغ آج کے سماج کی بہت ہی اہم ضرورت ہے ۔ اخلاق سے ہی انسان کی شناخت ہوتی ہے ۔ اچھے اخلاق کے ذریعہ انسان کے دلوں کو فتح کیا جاسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اخلاقی تعلیمات پر زور دیا ہے ۔ حدیث نبوی کا مفہوم ہے کہ دنیا میں سب سے اچھے انسان وہ ہیں جس کے اخلاق اچھے ہوں ۔ یہاں تک کہ اچھے اخلاق پر جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ اس کے برخلاف اخلاقی گراوٹ نہ صرف ذلت و خوار کا سبب بنتی ہے بلکہ خاندان و سماج پر بھی اس کا منفی اثر پڑتا ہے ۔ جس کا مشاہدہ موجودہ سماج میں دکھینے کو مل رہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا سید شاہ انواراللہ حسینی افتخاری جانشین حضرت وطنؒ نے محلہ سنگتم ظہیرآباد منعقدہ جلسہ میلادالنبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر دور میں نبی اکرم ﷺ کے اخلاق حسنہ کی اتنی ہی اہمیت و ضرورت اور اس کی رفادیت ہے جتنی چودہ سو سال پہلے تھی ۔ چونکہ اچھے اخلاق پر ہی بہتر سماج کی تشکیل ممکن ہے ۔ مولانا نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی اخلاق کا اعلی پیکر تھا ۔ اخلاق حسنہ مسلمانوں کی ایمان کی علامت ہے اور ایمان کی حفاظت کیلئے مسلمانوں کو ہر قربانی کیلئے تیار رہنا چہائے ۔ اس جلسہ سے مولانا عبدالحمید رحمانی چشتی صدر کل ہند تنظیم اصلاح معاشرہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ کے آخری نبی ہیں اور قیامت تک آنے والی انسانوں کیلئے عقیدہ ختم نبوت پر قائم رہنا ہی ایمان ہے۔ اس لئے موجودہ زمانے فتحنہ قادیانیت سے محفوظ رہنا مسلمانوں کیلئے ضروری ہے چونکہ فتنہ قادیانیت مسلمانوں کے امان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ مولانا نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ قادیانیوں سے معاملہ داری ان کی صحت سے سختی سے اجتناب کریں ۔ اس جلسہ کی صدارت مولانا سید افسر پاشاہ قادری نے کی ۔ مولانا محمد یوسف صوفی قادری ، مولانا قاضی سید ضیاء الدین قادری ، محمد ذاکر علی قادری ، الحاج ظفر حسین موجود تھے ۔ سید انیس پاشاہ قادری ، الحاج جنیدی قادری ، خواجہ محمد اعجاز علی شاہ قادری نے نعت شریف سنانے کی سعادت حاصل کی ۔