پاناجی 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانکنی کی سرگرمی گوا میں معطل کردینے سے دو افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اُنھیں اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کے خلاف ریاستی محکمہ کانکنی نے انتباہ دیا ہے کہ اس طرح اُن کے مطالبہ پر مرکزی حکومت کی توجہ مبذول ہوجائے گی اور کانکنی کی صنعت کا احیاء کرسکے گی۔ گوا مائننگ پیپلز فرنٹ نے جو محکمہ کانکنی کی ایک وفاقی تنظیم ہے، کہاکہ اگر کوئی مرکزی وزیر ریاست کی کسی تقریب میں شرکت کرتا ہے تو تقریب گاہ کے روبرو احتجاج کیا جائے گا۔ محکمہ نے انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ صنعت کانکنی سے دلچسپی رکھنے والوں کو موجودہ احتجاج دہلی تک نہیں لیجانا چاہئے۔ احتجاجی مظاہرے قومی دارالحکومت میں 11 ڈسمبر سے شروع ہوگئے ہیں۔ اور رام لیلا میدان پر چہارشنبہ تک جاری تھے۔ تاہم احتجاجی مظاہروں کو جمعرات کے دن سے جنتر منتر منتقل کردیا گیا۔ مختلف گوا کے سیاستداں بشمول وزرائ، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور دیگر پارٹی کے عہدیداروں نے احتجاجیوں سے گزشتہ دو دن کے اندر ملاقات کی ہے۔ تاہم کوئی ٹھوس تیقن حاصل کرنے سے قاصر رہے۔ مرکز کی حکومت یا بی جے پی نے اُن کے مطالبات کے سلسلہ میں کوئی ٹھوس تیقن نہیں دیا۔ جب یہ ارکان گوا واپس ہوں گے تو اُنھوں نے کہاکہ وہ اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ گوا میں اگر کوئی مرکزی وزیر کسی تقریب میں شرکت کرے تو جلسہ گاہ کے روبرو مظاہرے کئے جائیں گے۔ ہم مرکزی حکومت کو واضح طور پر پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ لوگوں کے روزگار کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرسکتے۔ تاہم محکمہ کانکنی ہمیشہ سے اِس بات کی کوشش کرتا رہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کا وقت مقرر ہوجائے تاکہ اُن سے کانکنی کے بحران کے بحران میں تفصیل سے تبادلہ خیال ہوسکے۔ ریاست میں کانکنی کی صنعت جاریہ سال مارچ سے تعطل کا شکار ہے کیوں کہ سپریم کورٹ نے خام لوہے کی دوسری تجدید کے امکانات کو مسترد کردیا تھا۔ خام لوہے کی کانکنی کے مسائل 2015 ء میں 88 کمپنیوں کو درپیش تھے جن کے بارے میں مرکزی حکومت کو تفصیلات سے واقف کروادیا گیا ہے۔ کانکنی مزدور مسلسل مرکزی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ کانکنی قانون میں جاریہ سرمایہ اجلاس کے دوران ترمیم کی جائے تاکہ کانکنی کی سرگرمی کا احیاء ہوسکے جس کے معطل ہوجانے سے کم از کم دو لاکھ افراد کا روزگار متاثر ہوچکا ہے۔