اتفاق
سیم و زر سے یہ بڑھ کے دولت ہے
ہو جہاں اتفاق کی برکت
گھر نہ سمجھو اسے وہ جنت ہے
کام بنتا ہے خوب مل جل کر
دور اگر ہیں تو دس کی قوت ہے
زیر کرتا ہے دشمنوں کو یہ ہی
اس کی طاقت غضب کی طاقت ہے
یہ ہی امن و امان کی ہے تدبیر
یہ ہی آسودگی کی صورت ہے
ایک اور ایک ہوتے ہیں گیارہ
اس مثل میں بڑی صداقت ہے
جس میں ہے اتفاق کا جوہر
قوم وہ برسر حکومت ہے
تم رہو اتفاق کے حامی
کہ یہ انسانیت کی خدمت ہے
یہ زمانہ کا اتفاق اس پر
نہ دلیل اس میں ہے نہ حجت ہے
٭٭ ٭ ٭٭