اتر پردیش اسمبلی میں اراکین کی ہنگامہ آرائی، کاروائی ملتوی

لکھنؤ: 19 دسمبر(سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش قانون ساز اسمبلی میں نظم ونسق اور دیگر مسائل کے سلسلے میں اپوزیشن کے ہنگامہ آرائی کے دوران مالی سال 2018۔19 کے سپلیمنٹری بجٹ کو پیش کرنے کے بعد کونسل کی کاروائی 20 دسمبر 11:00 بجے تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔ کونسل کی کاروائی شروع ہوتے ہی سماجوادی پارٹی(ایس پی) کے اراکین بینر۔پوسٹر لئے ہوئے کونسل کے درمیان آکر حکومت مخالف نعرے لگانے لگے جبکہ کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کے اراکین اپنے سیٹوں پر کھڑے ہوکر بینر پوسٹر لہراتے ہوئے حکومت مخالف نعرے لگائے ۔ اس درمیان کانگریس لیڈر دیپک سنگھ نے نظم ونسق اور کسانوں کے مسائل کے ساتھ ساتھ ریاستی ملازمین کی پرانی پنشن بحالی کے مطالبات کو لیکر حکومت مخالف نعرے لگاتے نظر آئے ۔ ہنگامہ آرائی کے درمیان اپوزیشن لیڈر احمد حسن نے کہا کہ ریاست میں نظم و نسق کی حالت انتہائی خراب ہے ۔ اس درمیان چیئرمین رمیش یادو نے کونسل کی کاروائی 11:03 بجے 20 منٹ کے لئے ملتوی کر دی اس کے بعد ایس پی کے سبھی اراکین ویل میں دھرنے پر بیٹھ رہے اور حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے ۔ 11:22بجے ڈپٹی مارشل نے چیئرمین کے ذریعہ کونسل کی کاروائی کو ملتوی کرنے کا وقت 12:00 بجے تک کردیئے جانے کی اطلاع دی اور بعد میں اس میں 20 منٹ کا مزید اضافہ کردیا گیا۔ دوبارہ کونسل کی کاروائی 12:20 بجے جیسے شروع ہوئی تو اپوزیشن اراکین کے شور شرابے اور نعرے بازی کے درمیان کونسل لیڈر دنیش شرما نے نے سپلیمنٹری بجٹ پیش کیا۔ اس کے بعد ہنگامہ آرائی کے دوران قانون ساز اسمبلی کے اسپیشل سکریٹری دیویندر گپتا نے سال 2018 کے 12ایکٹوں سے کونسل کو واقف کرایا۔ دیگر معاملوں کو ریاستی وزیر ڈاکٹر مہیندر سنگھ نے کونسل کی میز پر پیش کیا اور سات عرضیاں پٹیشن کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی۔ اپوزیشن کے ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے رمیش یادو نے متعلقہ اطلاعات کو اپنے دفتر سے ایگزیکیوٹ کرنے کی ہدایت دی اور کاروائی کو کل 11 بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔