اترپردیش اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور شور و غل کے مناظر

لکھنو ۔ 11 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام) : اترپردیش اسمبلی کی کارروائی آج اس وقت ملتوی کردی گئی جب اپوزیشن بی جے پی اور کانگریس ارکان میں مرکز کے حصول اراضیات بل پر جھڑپ ہوگئی ۔ وقفہ صفر کے دوران کانگریس ارکان نے حصول اراضیات بل 2014 سے متعلق ضمنی سوالات کیے ۔ جس پر بی جے پی ارکان نے شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ بل چند ایک ترامیم کے ساتھ لوک سبھا میں منظور کرلیا گیا ۔ اس خصوص میں کوئی سوال کرنا لاحاصل ہوگا ۔ رادھا موہن اگروال ( بی جے پی ) نے کہا کہ لوک سبھا میں کل بل کی منظوری کے بعد اب یہ سوال غیر ضروری ہے تاہم کانگریس ارکان یہ مسئلہ اٹھانے پر مصر رہے اور ایوان کے وسط پہنچ کر شور و غل کرنے لگے جس پر وقفہ صفر درہم برہم ہوگیا ۔ اسپیکر ماتا پرساد پانڈے نے یہ رولنگ دی کہ چونکہ یہ بل ہنوز قانونی شکل اختیار نہیں کیا ہے جس پر بحث کی جاسکتی ہے ۔ جس کے ساتھ بی جے پی ارکان کے احتجاج کے باعث ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کردی گئی ۔ بی جے پی ارکان نے حصول اراضیات بل کا مسودہ انگریزی میں فراہم کرنے پر اعتراض کیا ۔

ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر سوامی پرساد موریہ ( بی ایس پی ) کرسی صدارت سے گذارش کی کہ نظم و ضبط کو بحال کریں اور یہ الزام عائد کیا کہ دونوں جماعتیں بھی اس بل پر مباحث نہیں چاہتی کیوں کہ وہ کسان مخالف ہیں ۔ بی ایس پی ارکان نے بھی اس مسئلہ پر 2 مرتبہ ایوان سے واک آؤٹ کردیا ۔ اگرچیکہ اسپیکر نے بی جے پی اور کانگریس ارکان سے خاموش ہوجانے کی درخواست کی لیکن کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مسلسل نعرے بلند کرتے رہے جس کے جواب میں بی جے پی ارکان بھی وہاں پہنچ گئے اور شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے باعث اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 1-30 بجے دن ملتوی کردی ۔