حیدرآباد 6 فروری (سیاست نیوز) شہر میں ان دنوں آن لائن لاٹری کے ذریعہ دھوکہ دہی عروج پر ہے۔ اجنبی فون کے ذریعہ لاکھوں کروڑہا روپئے کی رقم جتنے کی لالچ دیکر معصوم عوام کو ٹھگنے کی کوششیں جاری ہیں۔ جعلساز و چالباز دھوکہ دینے والی ان ٹولیوں کا شکار بننے والوں میں خواتین اکثریت پائی جاتی ہے چونکا دینے والے آخری دلکش پیشکش اور سوغاتوں کی بھرمار کرنے والی لالچ دیکر کر ہزاروں و لاکھوں روپئے ہڑپے جارہے ہیں ۔ شکوک و شبہات کے بعد بھی بد معاشوں کی پیشکش کے آگے عوام اپنی محنت کی کمائی اکاونٹس میں جمع کرنے پر مجبور ہے حالیہ دنوں حیدرآباد کے مختلف علاقوں بالخصوص پرانے شہر سے سائبر کرائم پولیس کو کئی شکایتیں حاصل ہوئیں ۔ کوئی لاٹری کی آگ میں کوئی چہرہ پہنچانئے کی دوڑ میں تو موبائیل گفٹ کی فکر میں ہزاروں روپئے برباد کررہے ہیں افسوس کہ ان معاملات کو پولیس سے رجوع کرنے پر بھی اس کا کوئی فائدہ ہونے والا نہیں چونکہ ان دھوکہ بازوں کو پکڑنے کے بعد ان سے رقم کو دستیاب کرنا کافی مشکل ہے اور ایسے معاملات میں ریکوری کا فیصد بہت ہی کم پایا جاتا ہے ۔ بیرون ریاست بالخصوص چھتیس گڑھ جھارکھنڈ اور دہلی و گر گاوں علاقوں سے چلائے جانے والے ان ریاکٹس کو بے نقاب کرنا بہت مشکل امر ہے ۔ تاہم سائبر کرائم پولیس ان معاملات کی یکسوئی میں کافی اثر انداز ثابت ہورہی ہے ۔ حالیہ دنوں میوہ فروش ایک شخص کے تقریبا 8 ہزار ٹیلر کے 40 ہزار پرائیویٹ کام کرنے والے دو تا تین افراد کئی خواتین اور گذشتہ دن ایک آٹو ڈرائیور کی بیوی نے 35ہزار روپئے اجنبی کے اکاونٹ میں جمع کروائے ۔ اس خاتون کا کہنا ہے کہ ایسے مزید 35 ہزار روپئے جمع کرنے کیلئے کہا گیا ہے ۔ ورنہ 35 ہزار روپئے جو جمع کئے گئے اس رقم کو بھول جانے کا مشورہ دیا ۔ اس خاتون نے جو جہاں نما علاقہ میں رہتی ہے بتایا کہ ان کے شوہر پیشہ سے آٹو ڈرائیور ہیں انہیں ایک ہفتہ قبل ایک فون آیا تھا انہیں بتایا گیا ہے ان کی لاٹری لگی ہے اور ان کے فون نمبر نے ٹاٹا سفاری گاڑی جیتی ہے ۔ اگر آپ چاہے تو لے سکتے ہیں یا پھر گاڑی کی رقم لے سکتے ہیں اس کے بعد خاتون کو مبارکباد دی گئی ہے اور انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنایا پھر اپنے افراد خاندان میں کسی کا اکاونٹ نمبر روانہ کریں جس کے بعد اس خاتون کو ٹھگنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ پہلے رقم منتقلی کیلئے ضروری اقدامات کے اخراجات کے تحت 8 ہزار 5 سوار روپئے لئے گئے خاتون کو مشورہ دیا گیا اور ایک نمبر روانہ کیا گیا کہ وہ اس نمبر پر بینک کھاتے میں رقم جمع کروائیں جس کے بعد اس خاتون سے کہا گیا کہ جو بینک کھاتے کا اکاونٹ نمبر روانہ کیاگیا تھا وہ سیونگ اکاونٹ ہے اس اکاونٹ میں اتنی بڑی رقم کو جمع نہیں کیا جاسکتا لہذا رقم کو روانہ کرنے کیلئے مزید 16 ہزار روپئے ادا کرنے ہوں گے ۔ خاتون کو بتایاگیا کہ وہ فوری رقم روانہ کرے جس کے بعد اسے پھر فون پر اطلاع دی گئی کہ بینک کھاتے میں رقم منتقلی اور چیک تیار ہوچکا ہے لیکن منیجر کو مٹھائی کھانے کیلئے 10ہزار روپیوں کی ضرورت ہے ۔ اس خاتون نے یہ رقم بھی جمع کروادی ۔ اب اس خاتون کو شک ہوا چونکہ مزید 35 ہزار جمع کرنے کیلئے کہا گیا اس خاتون نے پولیس سے مسئلہ کو رجوع کیا پولیس نے اس اجنبی سے فون پر بات کی نتیجہ و فائدہ کچھ نہیں چونکہ دھوکہ باز اجنبی نہ پولیس کو دکھائی دیتا ہے نہ پولیس اسے دیکھ سکتی ہے ۔ اس خاتون نے پڑوسن سے طلائی زیورات لیکر اسے رہن رکھا تھا اور بڑی رقم کی آس میں دھوکہ دہی کا شکار ہوگئی ۔ اب اس خاتون کے 35 ہزار روپئے تو گئے ۔ اس خاتون کے مطابق پڑوسن کی بیٹی کی شادی کی تیاریاں جاری ہیں اور ایسے میں دھوکہ غیر ضروری نقصان ہے ۔ پولیس نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی پیشکش یا اجنبی فون پر توجہ نہ دیں اور کسی اجنبی کی بات پر یقین نہ کریں ۔ چونکہ ایسی ٹولیاں سرگرم ہیں اور دھوکہ دہی کا شکار بنا رہی ہیں ۔