آندھرا پردیش اور کرناٹک کے حالات میں مماثلت

محمد نعیم وجاہت
آندھرا پردیش میں بیمار کانگریس کا علاج کرنے کے لئے سونیا گاندھی نے ’’آپریشن آندھرا پردیش‘‘ کا آغاز کردیا ہے۔ غلام نبی آزاد کا جادو ناکام ہونے کے بعد راہول گاندھی نے پارٹی کی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے۔ فی الوقت کانگریس کی حالت کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں، کیونکہ ریاست کرناٹک کے نتائج نے کانگریس قیادت کی آنکھیں کھول دی ہیں، جہاں کے عوام نے بدعنوان بی جے پی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کردیا۔ تاہم سیاسی طورپر اگر دونوں ریاستوں کا تجزیہ کیا جائے تو کئی معاملے میں یکسانیت نظر آتی ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی کے تین چیف منسٹرس رہے، اسی طرح آندھرا پردیش میں بھی 2009ء سے اب تک کانگریس کے تین چیف منسٹرس خدمات انجام دے چکے ہیں۔ کرناٹک میں بی جے پی کے سابق چیف منسٹر یدی یورپا نے بی جے پی سے علحدہ ہوکر نئی جماعت بنائی ہے، اسی طرح آندھرا پردیش میں جگن موہن ریڈی نے بھی کانگریس سے علحدہ ہوکر نئی جماعت تشکیل دی ہے۔ کرناٹک کے سابق وزیر گالی جناردھن ریڈی معدنی بدعنوانیوں کے الزامات میں جیل پہنچ گئے، اسی طرح آندھرا پردیش میں بھی جگن موہن ریڈی تقریباً ایک سال سے محروس ہیں۔ کرناٹک میں بھی کئی وزراء پر بدعنوانیوں کے الزامات عائد ہوئے تھے، اسی طرح آندھرا پردیش کے بھی کئی وزراء کو بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی کی گروپ بندیوں اور اختلافات نے بی جے پی کا بیڑا غرق کردیا، اسی طرح آندھرا پردیش میں بھی کانگریس پارٹی کئی گروپس میں تقسیم ہو چکی ہے۔ مذکورہ حقائق کا جائزہ لینے کے بعد کانگریس ہائی کمان اس وقت اپنی ساری توجہ ریاست آندھرا پردیش پر مرکوز کی ہوئی ہے، کیونکہ 2004ء اور 2009ء میں مسلسل دو مرتبہ مرکز میں کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت تشکیل دینے میں ریاست آندھرا پردیش نے انتہائی اہم رول ادا کیا ہے۔ دونوں بار سارے ملک میں سب سے زیادہ کانگریس ارکان پارلیمنٹ آندھرا پردیش سے منتخب ہوئے تھے، تاہم اس مرتبہ حالات پوری طرح تبدیل ہوچکے ہیں۔ آندھرا پردیش میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں، انھیں حل کرنے کی بجائے کانگریس ہائی کمان نے ٹال مٹول سے کام لیا، جو اب کانگریس کے لئے ناسور بن گئے ہیں اور اب ان مسائل کا حل برآمد کرنا کانگریس کے لئے بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
گزشتہ چار سال سے آندھرا پردیش کی سیاست کا رُخ کس طرف ہے، کانگریس ہائی کمان واقف ہے، پھر بھی اَنجان بننے کی کوشش کر رہی ہے اور تبادلۂ خیال کے نام پر وقت برباد کر رہی ہے۔ کانگریس ہائی کمان 2014ء میں راہول گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کے ایجنڈا پر کام کر رہی ہے، جو ریاستوں کے تعاون کے بغیر ناممکن ہے۔ کرناٹک میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد راحت کی سانس لینے والی کانگریس قیادت نے آندھرا پردیش کے مسائل حل کرنے کے لئے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی، صدر پردیش کانگریس بی ستیہ نارائنا اور چند دیگر قائدین کو دہلی طلب کیا ہے۔ تین دن سے ریاست کی صورت حال بالخصوص داغدار وزراء، کابینہ کی توسیع اور ردوبدل، پردیش کانگریس عاملہ کی تشکیل، نامزد عہدوں پر تقررات، گورنر کوٹہ کے چار ارکان کونسل کا انتخاب کے علاوہ دیگر مسائل پر ہائی کمان کی مشاورت جاری ہے۔
بنگارو تلی اسکیم نے چیف منسٹر اور وزراء کے درمیان دوری پیدا کردی ہے۔ وزراء نے اسکیمات کے فیصلے یکطرفہ کرنے اور اعتماد میں نہ لینے کی چیف منسٹر کے خلاف ہائی کمان سے شکایت کی ہے، جس پر ہائی کمان نے چیف منسٹر سے وضاحت طلب کی ہے۔ کانگریس کے ایک ذمہ دار قائد کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر نے ہائی کمان کو ایک رپورٹ پیش کی ہے، جس میں انھوں نے چند وزراء کے خلاف مسائل پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ داغدار وزراء کی مدافعت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ متنازعہ جی اوز سے وزراء کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، جب کہ چند وزراء کو ہٹانے سے اپوزیشن جماعتوں کو فائدہ پہنچنے کا ادعا کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر داغدار وزراء کو علحدہ کیا جا رہا ہے تو انھیں کابینہ کی توسیع اور ردوبدل کی اجازت اور 2014ء کے عام انتخابات کا سامنا کرنے کے لئے ڈریم کابینہ تشکیل دینے کی مکمل آزادی دی جائے۔ اس صورت میں چیف منسٹر نے ریاست آندھرا پردیش میں کانگریس کو برسر اقتدار لانے اور 20 تا 25 کانگریس ارکان پارلیمنٹ کو کامیاب بنانے کا ادعا کیا۔ انھوں نے تلنگانہ پر ایسا فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا کہ دونوں علاقوں کے عوام یہ محسوس کریں کہ ان کے خلاف نہیں بلکہ ان کے حق میں فیصلہ ہوا ہے۔
کانگریس ذرائع کے بموجب چیف منسٹر نے اپنی رپورٹ میں ریاست کی سیاسی صورت حال پر وشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جگن موہن ریڈی کے ایک سال سے جیل میں رہنے کی وجہ سے وائی ایس آر کانگریس میں گروپ بندیاں شروع ہوچکی ہیں۔ ضمنی انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس کے حق میں جو ہمدردی تھی، اب وہ باقی نہیں رہی اور عام انتخابات تک اس میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ علاقہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا اثر کم ہو رہا ہے۔ دیگر جماعتوں کی طرح ٹی آر ایس میں بھی اختلافات بڑھ رہے ہیں اور تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں بھی پھوٹ پڑسکتی ہے، یعنی اب تلنگانہ تحریک برائے نام رہ گئی ہے۔ تلنگانہ کے 15 ارکان پارلیمنٹ کے سواء تمام ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور وزراء تلنگانہ تحریک سے اپنی دوریاں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ چندرا بابو نائیڈو کی پدیاترا سے تلگودیشم کو کچھ فائدہ ہوا ہے، تاہم تلگودیشم قائدین کو پارٹی قیادت پر بھروسہ نہیں ہے۔ سیما۔ آندھرا کے تلگودیشم قائدین وائی ایس آر کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں، جب کہ تلنگانہ کے قائدین ٹی آر ایس کو اہمیت دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں علاقہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہو رہا ہے۔ ان حالات میں عام انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ مگر کانگریس قائدین کے اختلافات، ناراضگیاں، گروپ بندیاں، علحدہ تلنگانہ اور متحدہ آندھرا کی تحریکیں کانگریس کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ وہ (چیف منسٹر) ہر ماہ نئی فلاحی اسکیم متعارف کراتے ہوئے عوام کے درمیان پہنچ رہے ہیں، مگر چندر وزراء کے علاوہ انھیں کانگریس قائدین کا تعاون نہیں مل رہا ہے اور نہ ہی ان اسکیمات کے بارے میں پردیش کانگریس کی جانب سے عوامی شعور بیدار کیا جا رہا ہے، بلکہ ہر مسئلہ پر کانگریس قائدین تنقیدیں کرکے عوام میں غلط تاثر پیدا کر رہے ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کو حکومت اور فلاحی اسکیمات پر تنقید کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ کانگریس ہائی کمان کسی کو بھی مکمل آزادی دینے کے خلاف ہے، کیونکہ اس کے سامنے راج شیکھر ریڈی کی مثال موجود ہے۔ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کو ہائی کمان نے مکمل آزادی دی تھی، جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ جن لوگوں کو انھوں نے ٹکٹ دِلوایا تھا، وہ آج کانگریس سے بغاوت کر رہے ہیں۔ لہذا کانگریس ہائی کمان کرن کمار ریڈی کو مکمل آزادی دے کر دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرنا چاہتی۔
چیف منسٹر کے دہلی پہنچنے کے بعد پارٹی صدر سونیا گاندھی نے انھیں دن بھر ملاقات کا وقت نہیں دیا، بلکہ ان کی بجائے تلنگانہ کے سینئر قائد ڈاکٹر کے کیشو راؤ اور کانگریس رکن اسمبلی ایم ششی دھر ریڈی کو ملاقات کا وقت فراہم کرکے ان سے تلنگانہ کی تازہ صورت حال پر بات چیت کی۔ چیف منسٹر کے دہلی پہنچنے کے بعد اچانک صدر پردیش کانگریس بی ستیہ نارائنا اور دو ریاستی وزراء ڈاکٹر جے گیتا ریڈی اور ڈی ناگیندر کو بھی غلام نبی آزاد نے دہلی طلب کرلیا۔راہول گاندھی کو اے آئی سی سی کا نائب صدر بنانے کے بعد کانگریس ہائی کمان کئی سطح پر تبدیلیوں کے لئے غور کر رہی ہے۔ دو عہدوں پر برقرار رہنے والے بی ستیہ نارائنا کو پردیش کانگریس کی صدارت سے ہٹاکر ان کی جگہ ملو روی، ڈی سرینواس اور کے لکشمی نارائنا میں سے کسی ایک کو پردیش کانگریس کی صدارت کا عہدہ سونپنے، جب کہ ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کو آل انڈیا مہیلا کانگریس کا صدر بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں کانگریس قائدین میں جوش و خروش پیدا کرنے کے لئے کارپوریشن اور بورڈ کے نامزد عہدوں پر تقررات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یعنی اس طرح سے ریاست میں کانگریس پارٹی کو انتخابات کی تیاری کے لئے مستحکم کیا جا رہا ہے۔ اس دوران کانگریس سے نکل کر وائی ایس آر کانگریس اور ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین بھی زیر بحث رہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس کے سامنے جو مسائل ہیں، پارٹی قیادت انھیں حل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے، یا پھر یہی مسائل کانگریس کے لئے مزید مشکلات پیدا کریں گے؟۔

Leave a Comment