انسان کے شکاری آزاد… ہرن کے شکاری کو سزا
پارلیمنٹ سیشن ضائع… حکومت پر اپوزیشن کا خوف
رشیدالدین
سلمان خان کو کالے ہرن کے شکار کے جرم میں عدالت نے آخرکار 5 سال قید کی سزا سنائی۔ تقریباً 20 سال تک یہ تنازعہ سلمان خان کا تعاقب کرتا رہا اور پھر عدالت کا فیصلہ سزا کی صورت میں آیا۔ عدالت کے فیصلہ پر عوام اور خواص میں مختلف رائے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ عدالت کے فیصلہ پر ہم کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ ہر شہری عدلیہ کے احترام کا پابند ہے۔ سلمان خان کو سزا کے اعلان کے بعد ایک سوال مسلسل ذہن و دماغ کو جھنجھوڑ رہا ہے، وہ یہ کہ جانور اور انسان کے خون میں اہمیت کس کی زیادہ ہے؟ خون تو بہرحال خون ہے لیکن انسان اور جانور کے خون کو مساوی درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ نام اور رنگ کے اعتبار سے دونوں میں یکسانیت ضرور ہے لیکن صرف مماثلت کی بنیاد پر انسان کو جانور کا خون چڑھایا نہیں جاسکتا۔ ہندوستان کے قانون میں انسانوں کے ساتھ جانوروں کو بھی تحفظ فراہم کیا ہے ۔ جانوروں پر مظالم کی صورت میں سزا کی گنجائش ہے اور اس کے لئے کئی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے سرگرم ہیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے قوانین اور ادارے تو موجود ہیں لیکن جب ’’خون سفید ہوجائے‘‘ تو انسانی جان کی اہمیت باقی نہیں رہے گی۔ یہ ملک کا عجیب سانحہ ہے کہ جہاں جانور کے شکار پر 5 سال کی سزا دی جاتی ہے لیکن گزشتہ 4 برسوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں بھرے ہجوم میں بے قصور اور نہتے انسانوں کا شکار کیا گیا لیکن قاتل آزاد گھوم رہے ہیں۔ قانون کے تحت سزا تو دور کی بات ہے ، قاتلوں کو اعزاز اور سمان کے ساتھ ہیرو کی طرح پیش کیا گیا۔ جانور کے شکار پر فلمی سوپر اسٹار کو سلاخوں کے پیچھے جیل کی ہوا کھانے پر مجبور کردیا گیا لیکن انسانوں کے شکاری آزاد گھوم رہے ہیں۔ 2014 ء میں بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد کتنے انسانوں کا شکار کیا گیا ، اس کی تفصیلات کی کوئی چنداں ضرورت نہیں۔ ملک کا ہر ذی شعور جانتا ہے کہ کبھی سڑکوں پر ، کبھی گھر ، کبھی ٹرین میں تو کبھی سنسان علاقہ میں انسانوں کا شکار کیا گیا۔ ہر شکار کے ملزم عینی شاہدین اور ٹھوس ثبوت کی موجودگی کے باوجود فخر کے ساتھ آزاد گھوم رہے ہیں جیسے ملک میں انسانوں کا شکار جائز ہو۔ کالے ہرن کے شکار پر 20 سال بعد بھی قانون نے اپنا کام کیا لیکن گزشتہ 20 برس نہیں بلکہ نریندر مودی حکومت کے 4 برسوں میں ہوئے انسانی شکار کے واقعات کے مجرمین کو سزا کب ہوگی ، ہم جاننا چاہتے ہیں۔ ہم اکیلے نہیں ملک کا ہر سیکولر اور انسانیت دوست یہی سوال کر رہا ہے کہ کیا جانور کے خون کی اہمیت انسان سے زیادہ ہے ؟ 2014 ء میں بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد سے ملک میں نفرت کے پرچارکوں اور جارحانہ فرقہ پرست عناصر کو جیسے انسانوں کے شکار کا لائسنس مل گیا ہو۔ جہاں کہیں کسی کمزور اور نہتے کو دیکھا بھرے بازار میں کسی نہ کسی عنوان سے شکار کیا گیا ۔
کسی بھی واقعہ کے تماش بینوں کی جانب سے بچانے کی ایک بھی مثال نہیں ملتی۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ گزشتہ 4 برسوں میں انسانوں کا شکار کرنے کا ذمہ دار سنگھ پریوار ہے۔ مقتولین کے نام ہر پلیٹ فارم سے اس قدر دہرائے گئے کہ قارئین کو یاد ہوچکے ہیں لیکن جس طرح کالے ہرن کے شکار پر 20 برس تک قانون اور تحفظ مویشیاں کی تنظیموں نے تعاقب کیا، اسی طرح کا تعاقب انسان کے شکاریوں کا نہیں کیا گیا ۔ حد تو یہ ہوگئی کہ شکاریوں اور قاتلوں کو سزا سے بچانے کیلئے سنگھ پریوار میدان میں آگیا اور نہتے انسانوں کے شکار پر فخر کیا جانے لگا۔ ایک شکاری نے جیل سے ویڈیو میسیج وائرل کرتے ہوئے انسان کے شکار پر شرمندگی اور ندامت کے بجائے فخریہ طور پر کارنامہ کی طرح پیش کیا۔ کالے ہرن کے شکار پر 5 سال قید کی سزا کے اعلان پر ان انسانوں کے خاندانوں پر کیا گزری ہوگی جن گھروں کے چشم و چراغ اور سرپرستوں کا انسان نما وحشی درندوں نے شکار کرلیا ۔ مقتولین کی بیوہ ، بچے اور بزرگ والدین سوال کر رہے ہیں کہ آخر ہمیں انصاف کب ملے گا ؟ جانور کی موت پر جب 20 سال بعد بھی سزا مل سکتی ہے تو کیا ہمارے اپنوں کے قاتلوں کو 40 سال بعد سزا ملے گی؟ خاندانوں کو بے سہارا کرنے والے اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اولاد کا شکار کرنے والے ظالموں کو سزا کب ہوگی؟ یہاں تو معاملہ ایسا ہے کہ خود حکومت ایسے عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے ۔ حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ انہیں انسانیت کے قتل پر دکھ اسی قدر ہوتا ہے جتنا کسی گاڑی کے نیچے کتے کے بچے کی موت پر ہوتا ہے۔ انسان سے زیادہ جانور کے بچہ کی موت پر غم کرنے والوں سے انصاف کی امید عبث ہے۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس اور اچھے دن کیا یہی ہیں کہ جانوروں کا تحفظ تو کیا جائے اور انسانوں کا خون بہایا جائے ۔ جانوروں کی رکشھا کے نام پر انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بد تر سلوک کیا گیا ۔ کیا یہی دستور اور قانون کی حکمرانی ہے ؟ کالے ہرن کا شکار تو جنگل میں کیا گیا لیکن انسانوں کا شکار کہاں کہاں ہوا اس بارے میں ہر کسی کو پتہ ہے۔ کالے ہرن کا شکاری ہیرو کو عدالت نے زیرو بنادیا جبکہ انسانوں کے شکاری سنگھ پریوار کے ہیرو بن گئے ۔ ان کی کوئی گرفت سرزنش یا باز پرس کرنے والا کوئی نہیں۔ جانور کا خون ، خون اور انسان کا خون پانی کی طرح غیر اہم ہوچکا ہے ۔ ملک میں پانی کی قیمت ہے لیکن انسانی خون کی کوئی قیمت نہیں، اور وہ بھی وہ انسان جس کا مخصوص طبقہ سے تعلق ہو۔ جب حکمراں خود بے حس ہوجائیں اور انسانی شکاریوں کی سرپرستی کرنے لگیں تو کون ہوگا جو انسانی شکار کو روک پائے گا۔
پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ مکمل طور پر ضائع ہوگیا۔ 5 مارچ کو دوسرے مرحلہ کا آغاز ہوا لیکن ایک دن بھی کارروائی نہیں چل سکی۔ اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے سبب ابتدائی دنوں کارروائی متاثر رہی جبکہ باقی ایام میں حکومت کی حلیف جماعتوں نے رکاوٹ پیدا کی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان ملک کو درپیش اہم مسائل پر مباحث کیلئے ہیں لیکن افسوس کہ حکومت نے مباحث سے فرار کا راستہ اختیار کیا۔ بینکوں میں ہزاروں کروڑ کا گھٹالہ ، بینکوں کو لوٹ کر حکومت کے قریبی افراد کی فراری کشمیر کی صورتحال اور دلتوں کے مسائل پر اپوزیشن مباحث کا خواہاں تھا ۔ اس مرتبہ علاقائی جماعتوں نے حکومت کے لئے الجھن پیدا کردی۔ بی جے پی کی حلیف تلگو دیشم نہ صرف حکومت اور این ڈی اے سے علحدگی اختیار کی بلکہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی۔ تلنگانہ کی برسر اقتدار ٹی آر ایس نے تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی، نریندر مودی حکومت نے صورتحال سے بچنے کے لئے اپنی حلیف انا ڈی ایم کے کو ڈھال بناتے ہوئے روزانہ ایوان میں بناوٹی ہنگامہ آرائی کا ڈرامہ کیا۔ آخری دن تک بھی یہ ہنگامہ جاری رہا اور تحریک عدم اعتماد پر مباحث نہیں ہوپائے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بی جے پی کے اندرونی حلقوں میں باغیانہ سرگرمیاں ہیں جس کے چلتے حکومت نے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے سے گریز کیا۔ ایل کے اڈوانی ، شتروگھن سنہا ، یشونت سنہا اور مرلی منوہر جوشی کی سرگرمیاں کہیں بی جے پی کے اندر طوفان کی طرح ابھر رہی ہے، جن کا سامنا کرنے مودی تیار نہیں ہے۔
کارروائی میں رکاوٹ کیلئے کانگریس کو ذمہ دار قرار دینا مضحکہ خیز ہے دراصل بی جے پی کے گھر میں سب کچھ ٹھیک نہیں۔ اگر حکومت ایوان کی کارروائی چلانے میں سنجیدہ ہوتی تو وہ انا ڈی ایم کے ارکان کو معطل کرسکتی تھی لیکن تحریک عدم اعتماد پر بی جے پی کا خوف واضح دکھائی دے رہا تھا۔ بی جے پی سمیت این ڈی اے کی حلیف جماعتوں نے 23 دن کی تنخواہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ عدم کارکردگی کے سبب وہ تنخواہ لینے تیار نہیں ہے۔ این ڈی اے ارکان کا یہ محض ایک ڈرامہ ہے۔ 23 دن کی تنخواہ سے زیادہ حکومت کو ان ہزاروں کروڑ روپیوں کا جواب دینا ہوگا جنہیں لوٹ کر حکومت کے قریبی افراد ملک سے فرار ہوگئے۔ تنخواہ نہ لینے سے سرکاری خزانہ میں ہزاروں کروڑ کی بھرپائی نہیں ہوسکے گی۔ وجئے مالیا ، للت مودی اور نیرو مودی کو کب تک وطن واپس لایا جائے گا۔ دوسری طرف دلتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاج کرتے ہوئے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ ایس سی ، ایس ٹی قانون میں سپریم کورٹ کی جانب سے ترمیم کے خلاف ملک کے تمام دلت سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے حکومت کو مجبور کردیا کہ وہ سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن داخل کریں۔ ملک میں یہ دوسرا موقع ہے جب سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف عوام نے احتجاج کرتے ہوئے فیصلہ کو بے اثر کردیا۔ ٹاملناڈو میں جلی کٹو کی رسم کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ٹامل عوام کے احتجاج نے بے اثر کردیا اور حکومت کو عوام کے آگے جھکنا پڑا۔ سپریم کورٹ نے مسلم پرسنل لا کے خلاف فیصلہ سنایا ہے جس کی بنیاد پر حکومت نے طلاق ثلاثہ کے خلاف لوک سبھا میں بل کو منظوری دے دی اور اب راجیہ سبھا کی باری ہے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود مسلمان بے حسی کا شکار ہیں۔ مرد تو گھروں میں بند رہے لیکن مسلم خواتین نے ملک کے 80 سے زائد شہروں اور ٹاؤنس میں بل کے خلاف مظاہرہ کیا لیکن افسوس کہ ان شہروں میں حیدرآباد کا نام شامل نہیں ہے جس نے حال ہی میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ کیا حیدرآباد صرف سیر و تفریح اور مہمان نوازی کا مرکز ہے؟ یہاں موجود تنظیموں اور پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داروں کو خاموش احتجاج کا خیال کیوں نہیں آیا؟ سلمان خان کی سزا پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
آدمی قتل کرو اور وزارت میں رہو
اب ہرن مارنے والوں کو سزا ہوتی ہے