ہیملٹن ، 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ورلڈ کپ کی تاریخ رقم کرنے کے دہانے پر موجود نہایت پُراعتماد ہندوستان کی اب کوشش رہے گی کہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے اپنے دوسرے آخری گروپ میچ میں باہمت آئرلینڈ کو بھی کل یہاں شکست سے دوچار کردیا جائے۔ چار متاثرکن کامیابیوں کے ساتھ کوارٹرفائنلس کیلئے پہلے ہی کوالیفائی ڈیفنڈنگ چمپینس اس ٹورنمنٹ میں اپنی پانچویں مسلسل جیت کیلئے کوشاں ہیں۔ اگر ہندوستان کل جیت جاتا ہے تو اس کیلئے گلوبل ایونٹ میں لگاتار نو میچز جیتنے کا نیا ورلڈ کپ ریکارڈ رقم ہوجائے گا، جس کی شروعات 2011ء ایڈیشن کے دوران چینائی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اُن کی کامیابی سے ہوئی۔ ٹیم انڈیا کی کریبی جزائر والوں کے خلاف گزشتہ میچ منعقدہ پرتھ میں جیت اُن کی لگاتار آٹھویں کامیابی رہی اور اس کے ساتھ سورو گنگولی کی ٹیم کے 2003ء ایڈیشن منعقدہ جنوبی افریقہ کے دوران کامیاب تسلسل کی برابری ہوگئی۔ کل بظاہر ایک اور غیرمساوی مقابلہ رہے گا جہاں ہندوستان چاہے گا کہ آئرلینڈ پر اپنی برتری جاری رکھے، جو پول B میں چوتھے مقام کے طلبگار ہیں تاکہ کوارٹرفائنل گریڈ حاصل ہوجائے۔ آخری مرتبہ ہندوستان کا آئرلینڈ سے میچ ورلڈ کپ کے گزشتہ ایڈیشن کے دوران بنگلور میں ہوا تھا، جہاں میزبانوں نے آسانی سے اپنے حریفوں کو پانچ وکٹوں سے ہرایا جبکہ یوراج سنگھ ’پانچ وکٹوں‘ اور ہاف سنچری کے ساتھ اسٹار پرفارمر کے طور پر ابھرے تھے۔ محمد سمیع اور روی چندرن اشوین جیسے بولرس ایسے اثرپذیر ثابت ہوئے ہیں کہ کوئی بھی اپوزیشن ٹیم کے بیٹسمین جاریہ کامپٹیشن میں 250 کا مجموعہ اسکور نہیں کرپائے ہیں۔ یہ ٹورنمنٹ ابھی تک ہندوستان کی بولنگ یونٹ کی شاندار واپسی کی کہانی رہا ہے، جس نے چار میچوں میں آپس میں 37 وکٹیں لئے ہیں۔ اگر یو اے ای کے خلاف بھونیشور کمار کی واحد وکٹ کی سعی کو ہٹا کر دیکھیں تو دیگر پانچ بولروں نے مل کر 36 وکٹیں بانٹ لئے ہیں۔ جہاں اشوین اور سمیع فی کس 9 وکٹس کے ساتھ دو ممتاز بولرس ثابت ہوئے ہیں، وہیں اومیش یادو، موہت شرما اور رویندر جڈیجا نے چھ، چھ وکٹوں کے ساتھ اپنی ذمے داری مساوی اثر اور سنجیدگی سے نبھائی ہے۔ تاہم ہندوستانی بولروں کیلئے چھوٹے سیڈن پارک گراؤنڈ میں آزمائش رہے گی، جہاں کی سائیڈ باؤنڈریز بمشکل 60 میٹرز ہیں، جس پر ہندوستانی بیٹسمنوں کو اعتراض نہ ہوگا۔ اب جبکہ مہیندر سنگھ دھونی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف گزشتہ میچ میں صبرآزما تعاقب کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے، تمام ٹاپ 7 بیٹسمنوں کی اب کم از کم ایک اچھی اننگز ضرور ہوگئی ہے۔ دوسری طرف آئرلینڈ کیپٹن ولیم پورٹرفیلڈ کا تاثر ہے کہ اُن کی ٹیم کیلئے ہندوستان کو کل شکست دینے کا بہترین موقع یہی رہے گا کہ حریفوں کو وقفے وقفے سے وکٹیں لیتے ہوئے بڑے اسکور سے روکا جائے۔ انھوں نے ڈیفنڈنگ چمپینس کے خلاف اپنے میچ کے موقع پر کہا، ’’ہم ابتدائی 10 اوورس میں جو کچھ بھی کرتے ہیں، بڑا اہم رہے گا۔‘‘ آئرش کیپٹن نہیں چاہتے کہ انڈیا کو کوئی خاص حریف سمجھیں اور اس میچ کیلئے اسی طرح میدان سنبھالنا چاہتے ہیں جیسے کوئی دیگر حریف کے معاملے میں کرتے ہیں۔ مگر انھیں اس میچ کی اہمیت کا پورا احساس ہے جیسا کہ کل شکست کی صورت میں کوارٹرس تک رسائی کیلئے انھیں اپنے آخری مقابلے میں پاکستان کو ہرانا لازمی ہوجائے گا ۔ ویسے پورٹرفیلڈ کو اس حقیقت سے اطمینان بھی ہے کہ اُن کے بقیہ دو مقابلوں میں اگر آئرلینڈ کو ناسازگار موسم کے سبب میچ ترک کئے جانے پر ایک پوائنٹ بھی حاصل ہوجائے تو وہ ویسٹ انڈیز کو ٹورنمنٹ سے باہر کرتے ہوئے ناک آؤٹ مرحلے میں داخل ہوجائیں گے۔