آئی پی ایل کے نوجوان پرفارمرز پر سلیکٹرز کی نظریں

چمپینس لیگ T20 کو بہتر بنانے پر غور ۔ کرکٹ بورڈ سکریٹری انوراگ ٹھاکر کی میڈیا سے گفتگو
کولکاتا ، 25 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی سی سی آئی سکریٹری انوراگ ٹھاکر نے آج کہا کہ نیشنل سلیکشن کمیٹی نوجوان انڈین ٹیلنٹ پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے جیسا کہ وہ کئی مقامات پر گئے تاکہ حالیہ اختتام پذیر انڈین پریمیر لیگ کرکٹ ٹورنمنٹ کے دوران عمدہ کارکردگی پیش کرنے والوں کے تعلق سے کچھ اندازہ قائم ہوسکے۔ ٹھاکر نے آج یہاں میڈیا والوں کے منتخب گروپ کو گفتگو کے دوران بتایا کہ کئی سلیکٹرز مختلف مقامات کا دورہ کرتے رہے ہیں۔ وہ نوجوان کھلاڑیوں کے پرفارمنس سے واقف ہیں۔ بی سی سی آئی نے بھی نظر رکھی ہے۔ یہ ایسا پلیٹ فام ہے جو کسی نوجوان کھلاڑی کو معقول مواقع فراہم کرتا ہے۔ آئی پی ایل کے بارے میں بی سی سی آئی سکریٹری کا خود تاثر یہ ہے کہ کوئی نوجوان کرکٹر اس لیگ کے دو ماہ میں اس سے کہیں زیادہ سیکھ سکتا ہے جو وہ 5 تا 10 سال میں سیکھ پائے گا۔ اس ضمن میں انھوں نے مندیپ سنگھ کی اے بی ڈی ولیرز جیسے اسٹار کی رفاقت میں بیٹنگ کی مثال پیش کی۔ ٹھاکر اس خیال پر بھی کھلا ذہن رکھتے ہیں کہ ٹسٹ میچ اسپیشلسٹ کھلاڑی جیسے چتیشور پجارا اگر کوئی فرنچائز کیلئے آئی پی ایل نہیں کھیلتے ہیں تو وہ انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں۔ سکریٹری ٹھاکر نے یہ بھی بتایا کہ بورڈ کی اعلیٰ قیادت چمپینس لیگ T20 کو مستقبل قریب میں مزید پُرجوش بنانے کی حکمت عملی وضع کررہی ہے۔ آسٹریلیا، ساؤتھ افریکا اور انڈیا کے کرکٹ بورڈز کی مشترکہ میزبانی والا CLT20 ٹورنمنٹ جہاں تک اسپانسرز کا معاملہ ہے کچھ زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کرپایا ہے بلکہ پرستاروں میں بھی بہت مقبول نہیں ہوا بلکہ گزرتے برسوں میں اپنی قدرتی کھوتا رہا ہے جس پر ہندوستانی بورڈ کو اس کے مستقبل پر نظرثانی کیلئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ اِس سال سی ایل ٹی ٹوئنٹی کی بجائے یو اے ای میں ’مِنی آئی پی ایل‘ کھیلا جاسکتا ہے مگر سکریٹری ٹھاکر نے کہا کہ یہ تجویز ہنوز زیرغور ہے۔