ریاض ۔ 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح کا کہنا ہے کہ تجزیوں سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ ہمیں اکتوبر کے مقابلے میں تیل کی یومیہ پیداوار میں دس لاکھ بیرل کمی کرنے کی ضرورت ہے”۔الفالح کے مطابق اس حوالے سے آراء میں موافقت پائی جاتی ہے کہ ہم تیل کے ذخیرے کو بڑھنے نہیں دیں گے اور تیل کی منڈی میں توازن کو یقینی بنانے کے لیے تمام مطلوبہ اقدامات کریں گے۔سعودی وزیر نے واضح کیا کہ "دسمبر میں ہمارے صارفین کی طلب میں نومبر کے مقابلے میں یومیہ پانچ لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے سکریٹری جنرل نے خبردار کیا کہ 2019ء ایک مشکل سال ہو گا۔دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک سعودی عرب کی جانب سے دسمبر کی سپلائی میں کمی کے اعلان کے بعد آج پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں تقریبا 2% کا اضافہ دیکھنے میں آیا ،،، اور خام تیل کی فی بیرل قیمت 71.61 ڈالر ہو گئی۔ مملکت کے مطابق اْس کے اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں جاری مندی پر روک لگانا ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر کے اوائل سے اب تک تیل کی قیمتوں میں 20% کی کمی واقع ہوئی ہے۔اوپیک تنظیم تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک کو بھی رابطہ کاری کے ساتھ تیل کی پیداوار کم کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے تاہم فی الوقت اسے مبہم ردّ عمل کا سامنا ہے۔