سعودی کے نائب ولیعہد نے کہاکہ ٹرمپ مسلمانو ں کے حقیقی دوست ہیں

واشنگٹن:نائب ولیعہد محمد بن سلمان السعود نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی پہلی سرکاری ملاقات کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ’’امریکی اور سعودی کے مراسم کا یہ تاریخی پہلو ہے‘‘۔

مذکورہ نائب ولیعہد نے ٹرمپ کو ایک’’ حقیقی مسلم دوست‘‘ قراردیا اورکہاکہ وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ صدر نے سعودی عرب کو چھوڑ کر چھ مسلم اکثریت والے ممالک کے مسافرین پر یہاں کے شہریوں کو نشانہ بنانے کے لئے امتناع عائد کیا ہے۔

بلوم برگ کے مطابق پرنس محمد کے ایک سینئر مشیر نے اپنے بیان میں کہاکہ ’’ یہ تمام چیزیں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے عظیم سونچ اور دونوں ممالک کے درمیان کے رشتوں کی اہمیت کے اور علاقے کے مسائل پر ان کی گہری گرفت پیش نظر لیاگیافیصلہ ہے ‘‘۔

’’ خود مختار فیصلے کے تحت اٹھایاگیا اقدام کامقصد دہشت گردوں کو یہاں سے امریکہ میں داخلہ کو روکنا ہے‘‘۔جنوری 20کو صدارتی عہدہ کاجائزہ لینے کے بعد ڈونالڈ ٹرامپ کی وائیٹ ہاوز میں چودی عرب کے اعلی عہدیداروں کے وفد کے ساتھ یہ پہلی ملاقات ہے۔

نیوز یارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر نے سب سے پہلے منگل کے روز سعودی عرب کے ڈیفنس منسٹر و ولیعہد کے ساتھ ظہرانہ کی پہل کی۔

ریاض کو امریکی کے ساتھ گہرے مراسم سے کافی امیدیں وابستہ ہیں وہ ایسے وقت جب اوباما انتظامیہ اور سعودی کے درمیان بالخصوص ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کے بعد تعلقات کشیدہ ہوئے تھے۔

ٹرمپ اور پرنس محمد نے ملاقات کے دوران دہشت گردی سے نمٹنے کے ضروری کوششوں پر زوردیا۔سعودی گزٹ کے مطابق دونوں لیڈران نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی نئی حکمت عملی پر غور کیاہے۔

دونوں نے ایران کے متعلق مشترکہ نظریہ کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے علاقے میں ایران کی داخلی امور کے اندر مداخلت پرمملکت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا۔

مذکورہ دونوں قائدین نے بحرین ‘ مصر او رسوڈان کو درپیش مسائل کے حل میں مدد کابھی اس موقع پر عہد لیا۔پرنس محمد دنیا کا پانچویں لیڈر ہیں جنھوں نے وائٹ ہاوز کا جائزہ لینے کے بعد ٹرمپ سے سرکاری طور پر ملاقات کی ہے۔

دورا ن ملاقات معاشی حکمت عملی اور سرمایہ کارے کے نئے مواقعو ں پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا۔ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ سعودی عربیہ اور اس کے گلف ساتھی مسائل کے انبارکے حل کے لئے شام میں محفوظ زون کے قیام کے ذریعہ فلسطین اور اسرائیل تنازع کا بھی حل تلاش کریں گے۔