برمابحران۔ 86ہندو ہلاک‘ 200بے گھر ‘ وزیراعظم کے مداخلت کی ضرورت

برما۔یہاں پر ایک اور وجہہ ہے ہندوستان کی برما بحران میں مداخلت ضروری ہوگئی ہے کیونکہ میانمار میں صرف ’’مسلمانوں‘‘ کا قتل عام نہیں ہورہا ہے‘ منگل کے روز ایک مقامی ٹیلی ویثرن نے خبر دی ہے کہ اعداد وشمار کے مطابق برمی آرمی او رراکھین سالویشن آرمی کے حملوں کے بعد کم سے کم86ہندوؤں کاقتل اور 200ہندو خاندان جنگلات کے طرف کوچ کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں تاکہ اس تشدد سے اپنی جان بچا سکیں۔

کشیدگی کا شکار میانمار کی ریاست راکھین میں سینکڑوں کی تعداد بے قصور لوگوں کا قتل کیاجارہا ہے ‘ ہندومکینوں کا بھی کہنا ہے کہ فوج ان کے گھر وں کو بھی نذر آتش کررہی ہے‘ مذکورہ مہاجرین بھی بنگلہ دیش کے کاز بازار علاقے میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

میانمار سے جان بچاکر بھاگنے والے ایک پناہ گزین کالو سیل نے کہاکہ ’’ برمی فوج اور اے آر ایس اے سیلاب کی طرح ہمارے علاقوں میں داخل ہوکر سینکڑوں لوگوں کے گالے کاٹ رہے ہیں اور بے رحمی کے ساتھ انہیں چاقو گھونپ کر ہلاک کررہے ہیں۔

ہمارے گھر والوں کو ختم کرنے کے بعد وہمارے جھونپڑے بھی نذ ر آتش کررہے ہیں‘‘-رامانی دھار جو ایک پناہ گزین ہیں کے بیان کو مقامی ٹیلی ویثرن نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ’’ کچھ نقاب پیش لوگ ہمارے گاؤں میں ائے اور تشدد برپا کیا اور توڑ پھوڑ مچائی‘‘۔

تین دہوں سے چارلاکھ روہنگیوں کی مہمان نواز ی بنگلہ دیش کررہا ہے وہا ں پر پچھلے دوہفتوں میں تریبا تین لاکھ روہنگی پناہ گزین داخل ہوئے ہیں۔

 

https://www.youtube.com/watch?v=al6oHqODjtc